بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کی جانب سے حکومتِ بلوچستان کو ایک باضابطہ تحریری دستاویز پیش کی گئی ہے، جو ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) اور سیکریٹری ہوم کے دفتر میں 23 اپریل 2026 کو حمزہ شفقات کے دفتر کے ذریعے وصول کی گئی۔
اس دستاویز میں سال 2025 اور جنوری تا مارچ 2026 کے دوران جبری گمشدگیوں کے متاثرین کی تفصیلی، کیس بائی کیس دستاویزات شامل ہیں۔
خاندانی بیانات، براہِ راست گواہیوں اور کمیونٹی ذرائع سے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق 2025 میں 1,250 سے زائد افراد جبری طور پر لاپتہ کیے گئے۔
2026 کے ابتدائی تین ماہ میں 231 افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوئے۔
یہ واقعات زیادہ تر چھاپوں اور انٹیلی جنس آپریشنز کے دوران پیش آئے، جن میں متعدد مواقع پر اہلِ خانہ کے سامنے جسمانی و زبانی تشدد کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
دستاویزات کے مطابق 2025 کے تقریباً 400 افراد اور 2026 کے ابتدائی مہینوں کے 75 افراد مختصر مدت کی گمشدگی کے بعد رہا کیے گئے۔
کچھ افراد پر مقدمات قائم کر کے انہیں حراست میں منتقل کیا گیا۔تاہم 2025 کے 821 افراد اور 2026 کے 142 افراد تاحال لاپتہ ہیں، اور ان کے اہلِ خانہ ان کی حالت اور مقام سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ مرتب شدہ دستاویز بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے حجم اور نوعیت سے متعلق پائی جانے والی ابہام کو ختم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہوئے اور دستیاب ذرائع سے تصدیق شدہ ہیں، جبکہ محدود رسائی اور وسائل کے باعث متعدد کیسز اب بھی غیر دستاویزی رہ سکتے ہیں۔
بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ ریاستی ادارے اس دستاویزی کوشش کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قانونی، شفاف اور مؤثر اقدامات کریں گے، تاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی ممکن ہو سکے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے زور دیا کہ اس مسئلے پر بروقت اور سنجیدہ پیش رفت نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث بنے گی بلکہ بلوچستان میں انسانی وقار، انصاف اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔