بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں مشکے میں تعمیراتی کمپنی اور فوج پر حملوں میں 8 فوجی اہلکار وں کی ہلاکت ، پنجگور میں ناکہ بندی اور کسٹم چیک پوسٹ پر حملے میں سرکاری اسلحات و گاڑیاں ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 24 نومبر کی صبح مشکے کے علاقہ پروار میں پٹرول پمپ کے قریب تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا جو فوجی نقل و حرکت آسان بنانے کیلئے فوج کے زیر نگرانی سڑک تعمیر کر رہی تھی۔ کیمپ میں موجود چار گاڑیوں اور تمام مشینری کو سرمچاروں نے نذر آتش کیا جبکہ ایک گاڑی کو ضبط کرکے سرمچار اپنے ساتھ لے گئے۔
انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کمپنی پر حملے کے بعد قابض آرمی کی چھ گاڑیوں، نو موٹر سائیکلوں اور پیدل دستوں پر مشتمل قافلے نے سرمچاروں کا تعاقب کیا۔ سرمچاروں نے گوریلا حکمت عملی کے تحت چرچری کے علاقے میں گھات لگا کر تعاقب کرنے والے فوجی دستوں پر جدید و بھاری ہتھیاروں سے منظم حملہ کیا، جس کے نتیجے میں آرمی اور ایف سی کے آٹھ اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ درجنوں اہلکار شدید زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اور کاروائی میں سرمچاروں نے پنجگور کے علاقے وشبود میں شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی جبکہ سرمچاروں کے دوسرے دستے نے وشبود کسٹم چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور اہلکاروں کو تحویل میں لے کر ان سے سرکاری اسلحہ و دیگر عسکری ساز و سامان اور تین سرکاری گاڑیاں قبضے میں لے کر ضبط کرلیا تاہم کسٹم اہلکاروں کو انسانیت کے ناطے رہا کرلیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مشکے میں تعمیراتی کمپنی اور قابض فوج پر حملوں میں آرمی اور ایف سی کے 8 اہلکار ہلاک اور متعدد اہلکاروں کو زخمی کرنے، پنجگور میں شاہراہ پر ناکہ بندی اور کسٹم سے سرکاری اسلحہ اور گاڑیاں ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ آزاد بلوچستان کے حصول تک ہماری کاروائیاں منظم انداز میں جاری رہیں گی۔