بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما نے "دی گارڈین ” چھپنے والی ایک تحریر میں اپنی اسیری، مزاحمت اور بلوچ عوام کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔
کوئٹہ کی سینٹرل جیل ہُدہ کے بلاک نائن میں تنہائی کی قید کا ایک سال مکمل کرنے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنی تحریر میں بتایا ہے کہ یہ قید ان کی سیاسی جدوجہد کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ "میری پرامن جدوجہد جاری ہے”
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، جو بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے سربراہ ہیں، نے اپنی تحریر میں بتایا کہ انہیں اور ان کے دو ساتھیوں کو دیگر خواتین قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے، صرف اس لیے کہ وہ سیاسی قیدی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تنہائی کا درد جسمانی اذیت سے کہیں زیادہ ہے، خاص طور پر جب ان کے خاندان کو ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہو۔
تحریر میں انکشاف کیا گیا کہ ان کے کزن سلال بلوچ اور سیف اللہ بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جبکہ ان کے بھائی کو "فورتھ شیڈول” میں شامل کر کے سخت نگرانی، سفری پابندیوں اور مالی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کی بہن کو بھی پریس کانفرنسوں میں آواز بلند کرنے پر ہراساں کیا گیا اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ نے بتایا کہ جیل میں فون کالز پر پابندی ہے، مقدمات ہفتے کے دن جیل کے اندر ہی سنے جاتے ہیں تاکہ عوامی رسائی ممکن نہ ہو۔ وہ لکھتی ہیں کہ ان کی گرفتاری اور قید دراصل بلوچ عوام کے حقوق کی مانگ کی سزا ہے، اور یہ ان کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
انہوں نے ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، اور بلوچ خواتین کو نشانہ بنانے جیسے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 2025 میں BYC نے 1200 سے زائد جبری گمشدگیوں کی دستاویزات جمع کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن مزاحمت کو خطرہ سمجھنا جمہوری اقدار کی نفی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے واضح کیا کہ BYC آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پرامن جدوجہد کرتا ہے۔ انہوں نے تمام پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی پروپیگنڈہ ان کی تحریک کو مسلح گروہوں سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
تحریر کے اختتام پر وہ لکھتی ہیں: "یادیں قید میں تیز ہو جاتی ہیں، لیکن ان میں سب سے واضح میری سرزمین بلوچستان ہے۔ ہم پرامن مزاحمت جاری رکھیں گے۔”