بلوچستان کے علاقے مشکے میں پاکستانی فورسز کے قافلے پر شدید نوعیت کی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں ایک گاڑی تباہ اور متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جاریا ہے جبکہ پنجگور کے علاقے وشبود میں مسلح افراد نے کسٹم چیک پوسٹ پر حملہ کرکے اہلکاروں کو یرغمال بناکر سرکاری اسلحات اور گاڑیاں قبضے میں لے لیں۔
ضلع آواران سے اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ تحصیل مشکے کے پہاڑی علاقے میں آپریشن کے غرض سے داخل ہونے والا پاکستانی فورسز کا فوجی قافلہ مشکے کے چُر چُری کئور کے مقام پر گھات میں بیٹھے مسلح افراد کے شدید حملے کا نشانہ بنا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز کا قافلہ 4 گاڑیوں اور 9 موٹر سائیکلوں پر مشتمل تھا، جو سرچ آپریشن کے لیے پہاڑی علاقے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسی دوران پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے بھاری ہتھیاروں سے قافلے کو نشانہ بنایا۔
حملے کے نتیجے میں ایک فوجی گاڑی مکمل طور پر تباہ جبکہ متعدد گاڑیاں ناکارہ ہوئیں، جس سے درجن سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
علاقائی ذرائع نے بتایا کہ حملے کے بعد تاحال فورسز کے تباہ و ناکارہ ہوئی گاڑیاں وہاں پڑی ہیں جبکہ فورسز جائے وقوعہ سے پسپا ہوگئی ہے۔
تاہم تاحال سرکاری سطح پر ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دوسری جانب ضلع پنجگور کے علاقے وشبود میں گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے کسٹم چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے تمام اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور ان سے سرکاری اسلحہ و دیگر سامان قبضے میں لیا جبکہ کسٹم کے زیر استعمال گاڑیاں بھی اپنے تحویل میں لے لیں ۔
حملے کے بعد مسلح افراد بغیر مزاحمت کے علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
تاہم واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔