بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں کئی ماہ سے جاری سخت کرفیو نے شہری زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق پاکستانی فورسز نے علاقے میں نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ موبائل فون سروس اور دیگر مواصلاتی نظام بھی مسلسل معطل ہیں۔
گزشتہ سال بلوچ آزادی پسندوں کی سرگرمیوں کے بعد پاکستانی فوج نے زہری میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا تھا۔ اس دوران مرکزی بازار نورگامہ سمیت متعدد مقامات پر فوجی کیمپ قائم کیے گئے اور پورے علاقے کو کرفیو کے تحت رکھا گیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نورگامہ کا واحد بازار روزانہ صرف دو گھنٹے کے لیے کھولا جاتا ہے، جبکہ شہریوں کو خضدار یا کوئٹہ جانے کے لیے بھی خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔
مقامی افراد نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ جامع مسجد کو فوجی کیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث لوگ عید اور جمعہ کی نمازیں ادا کرنے سے محروم ہیں اور گھروں میں عبادت کرنے پر مجبور ہیں۔
رہائشیوں کے مطابق بلوچستان حکومت کو شکایات درج کرائی گئی ہیں، تاہم زہری سے منتخب نمائندہ سردار ثناء اللہ زہری نے مبینہ طور پر کرفیو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے، جس سے علاقے میں خوف اور بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب زہری کے علاقے سوہندہ میں حالیہ مہینوں کے دوران ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک حملے میں 2 افراد کے ہلاک ہونے کی خبریں موصول ہوئیں، جبکہ اس سے قبل ایک اور مبینہ ڈرون حملے میں دو خواتین سمیت چار افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے خوف و ہراس میں اضافہ کر دیا ہے۔
رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے اور مریضوں کو کراچی اور کوئٹہ منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔
زہری کی طرح نوشکی میں بھی فروری سے کرفیو نافذ ہے، جہاں شام کے بعد بازار بند کر دیے جاتے ہیں اور شہریوں کو مغرب کے بعد سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
نوشکی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ فوجی حکام نے کرفیو کے خاتمے کو فوج کے حق میں ریلی نکالنے سے مشروط کر رکھا ہے۔
نوشکی اور زہری کے رہائشیوں نے بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔