بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے ) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں بلوچستان بھر میں مربوط حملوں میں 86 سے زائد پاکستانی فورسزاہلکاروں کی ہلاکت اور درجنوں تنصیبات کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے طول وعرض میں قابض پاکستانی فوج کے خلاف بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 29 مارچ کو مربوط حملوں کا آغاز کیا جو یکم اپریل تک جاری رہے۔ سرمچاروں نے پنجگور، شاپک، بسیمہ، سبی، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، مستونگ، کوئٹہ، نوشکی، زامران، دشت، سوراب، جھل مگسی، دالبندین، خاران، واشک اور قلات میں 65 کارروائیاں کیں جن میں قابض فوج، ڈیتھ اسکواڈز اور خفیہ اداروں کے 86 سے زائد اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ان حملوں میں قابض فوج کے کیمپوں سمیت ایئربیس، ریڈار سسٹم، مواصلاتی ٹاور، ریلوے ٹریکس و پُلوں اور گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مرکزی شاہراہوں کو گھنٹوں تک کنٹرول میں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قابض فوج سے جھڑپوں کے دوران پنجگور میں ہمارے پانچ ساتھی سنگت زاہد، سنگت سعید اللہ، سنگت جہانزیب، سنگت عامر اور سنگت صدام جبکہ زامران میں سنگت عبدوست (عبد الرحمان) شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔
ترجمان نے کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 29 مارچ: اتوار کی شب بارہ بجے پنجگور میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی تشکیل کردہ "ڈیتھ اسکواڈز” ٹھکانوں پر حملے کیئے جبکہ قابض فوج کے ساتھ پانچ مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ سرمچار گرمکان کے علاقے میں ڈیتھ اسکواڈ کارندے شاہد کے ٹھکانے پر حملہ کرکے جھڑپوں کے بعد کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ حملے میں دو ڈیتھ اسکواڈ کارندے ہلاک ہوگئے جبکہ شاہد اپنے دیگر کارندوں کے ساتھ بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ سرمچاروں نے فوجی کارندے شاہد کی دو گاڑیوں کو نذرآتش کرنے سمیت ٹھکانے کو آئی ای ڈی نصب کرکے دھماکے میں تباہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں کے ایک اور دستے نے گرمکان ہی کے علاقے میں "ڈیتھ اسکواڈ” سرغنہ کلیم اللہ کے ٹھکانے پر حملہ کیا۔ پندرہ منٹ کے دوران سرمچار کلیم اللہ کے ٹھکانے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں تاہم قابض فوج کا کارندہ اپنے دیگر ساتھیوں سمیت بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ سرمچاروں نے ٹھکانے میں موجود سرویلنس کیمروں سمیت تین گاڑیوں کو نذرآتش کردیا جبکہ ٹھکانے کو آئی ای ڈی نصب کرکے تباہ کردیا۔ گرمکان میں قابض فوج نے پیدل و گاڑیوں میں پیش قدمی کی کوشش کی جس کو سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بنایا اور جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ بی ایل اے کا ایک سرمچار سنگت زاہد عرف نواز شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ قابض فوج کے ساتھ ایک اور طویل جھڑپ گرمکان اور وشبود کے درمیان ہوئی جہاں قابض فوج نے علاقے کو محاصرے میں لینے کی غرض سے پیش قدمی کی۔ اس طویل جھڑپ میں قابض فوج کے کم از کم چھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ بی ایل اے کے دو سرمچار سنگت سعید اللہ عرف معراج اور سنگت جہانزیب عرف قمبر جان شہید ہوگئے۔ خدابادان کے مقام پر سرمچاروں نے "ڈیتھ اسکواڈ” سرغنہ فرحان کے ٹھکانے پر حملہ کرکے کنٹرول حاصل کیا، حملے میں چار ڈیتھ اسکواڈ کارندے ہلاک ہوئے جبکہ ٹھکانے سے مختلف قسم کے آٹھ ہتھیار تحویل میں لیے گئے اور ٹھکانے کو آئی ای ڈی نصب کرکے دھماکے میں تباہ کردیا۔ اس جھڑپ میں سنگت عامر عرف خالد شہید ہوگئے۔ اسی مقام پر قابض فوج کے ساتھ طویل جھڑپیں ہوئیں جس میں دشمن کے چار اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ سنگت شاویز زخمی ہوگئے، انہیں زخمی حالت میں سرمچار منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاہم دوسرے روز سنگت صدام عرف شاویز شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے فٹ بال چوک کے مقام پر کنٹرول حاصل کرکے اسنیپ چیکنگ کا آغاز کیا۔ اس دوران "ڈیتھ اسکواڈ” کی ایک ویگو گاڑی حملے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں چار کارندے موقع پر ہلاک ہوگئے، بعدازاں قابض فوج نے مذکورہ مقام پر پیش قدمی کی کوشش کی جس کو تھرمل ودیگر جدید ہتھیاروں سے لیس سرمچاروں نے حملہ کرکے پسپا کردیا۔ حملے میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہوگئے۔ ان کارروائیوں میں سرمچاروں نے قابض فوج کے چار کواڈ کاپٹر مار گرائے جبکہ دو عدد ایم فور، پانچ عدد کلاشنکوف، ایک عدد ایل ایم جی، ایک عدد آر پی جی اور ایک عدد تھرمل اسکوپ تحویل میں لیئے گئے۔
ترجمان نے کہا کہ 29 مارچ: کیچ کے علاقے شاپک میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے میں نشانہ بنایا، آدھے گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے اور دشمن کو مزید جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ واشک کے علاقے بسیمہ میں روتینکو کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا، پینتالیس منٹ سے زائد جاری اس حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے اور مزید جانی ومالی نقصانات اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ سبی، مل سریانی کے مقام پر بجلی مین ٹرانسمیشن لائن کے تین ٹاوروں کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی کے قریب بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائن کے دو ٹاوروں کو تباہ کردیا۔ سبی، لمجی کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنا کر جانی نقصانات سے دوچار کیا۔ ڈھاڈر میں سرمچاروں نے شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کرکے اسنیپ چیکنگ کی۔ سبی میں کٹ منڈائی کے مقام پر سرمچاروں نے دو گھنٹوں سے زائد شاہراہ کا کنٹرول حاصل کرکے اسنیپ چیکنگ کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مستونگ کے علاقے کانک میں سرمچاروں نے لیویز چوکی پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں موجود اسلحہ کو تحویل میں لیا جبکہ چوکی وگاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔ کوئٹہ میں زراعت کالونی کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) آفس کو حملے میں نشانہ بنایا، سرمچاروں نے دشمن کے پوزیشنز پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے، دھماکوں کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور مزید پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔ کوئٹہ، اختر آباد کے مقام پر سرمچاروں نے پولیس کی گاڑی کو گرنیڈ لانچر سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے کوئٹہ، تیرہ میل کے علاقے میں ریلوے پُل سمیت ٹریک کو پانچ جگہوں پر، اور کوئٹہ ایریگیشن کالونی کے قریب ریلوے ٹریک کو چار جگہوں پر آئی ای ڈی نصب کرکے تباہ کردیا۔
تنظیم کے مطابق بسیمہ میں لتاڑ کے مقام پر اتوار کی شب سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا، سرمچاروں نے تھرمل اسکوپ وخودکار اور بھاری ہتھیاروں سے دشمن پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے اور مزید جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ نوشکی، سرمچاروں نے ریلوے ٹریک کو بٹو لانڈی، احمد وال اور گومازی میں پانچ جگہوں پر بارودی مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ ڈیرہ بگٹی، سوئی شہر میں محمد کالونی کے مقام پر گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ زامران میں سرکیزا آپِ تنک کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو مختلف اطراف سے نشانہ بنایا، ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں سرمچاروں نے بھاری اور جدید اسلحہ استعمال کیا جبکہ جھڑپوں میں سرمچار عبدوست عزیز عرف المان شہید ہوگئے۔ قابض فوج نے قافلوں کی شکل میں علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جس کو سرمچاروں نے دو مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر قابض فوج کے پانچ اہلکار ہلاک ہوگئے۔ سوراب میں مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک ہوگئے، اس دوران قابض فوج نے کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا جن میں سے ایک کو سرمچاروں نے مار گرایا۔
انہوں نے کہا کہ 30 مارچ: جھل مگسی میں سرمچاروں نے کوٹڑو میں پولیس اسٹیشن کا کنٹرول حاصل کرکے ایک اہلکار گرفتار کیا جبکہ جھڑپوں میں ایک اہلکار ہلاک اور ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ قابض فورسز نے اس دوران عام آبادی کو بطور ڈھال استعمال کیا تاہم سرمچاروں نے عوامی نقصانات سے پرہیز کرتے ہوئے کامیابی سے اپنی کارروائی سرانجام دی، بعدازاں گرفتار پولیس اہلکار کو علاقے کے بزرگوں کی درخواست پر رہا کردیا گیا۔ دوپہر کے وقت قابض پاکستانی فوج کے آٹھ گاڑیوں پر مشتمل قافلے نے پیش قدمی کی کوشش کی جس کو سرمچاروں نے کوٹڑو، نورانی روڈ پر نشانہ بنایا۔ حملے میں قابض فوج کے نو اہلکار ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوگئے۔ دشمن کی دو گاڑیاں مکمل تباہ جبکہ مزید تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سرمچاروں نے ایک گاڑی سے ڈرونز، مارٹر گولے اور دیگر جنگی سامان تحویل میں لینے کے بعد ناکارہ گاڑی کو نذرآتش کردیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دالبندین، سیاہ چنگ میں سرمچاروں نے لیویز چوکی کو کنٹرول میں لے کر اہلکاروں کو حراست میں لیا۔ مائننگ سائٹ کا کنٹرول حاصل کرکے کمپنی کی مشینری کو نذرآتش کردیا جبکہ لیویز اہلکاروں کو تنبیہ کے بعد رہا کردیا گیا۔ کارروائی میں چودہ ہتھیار اور ایک گاڑی تحویل میں لی گئی۔ خاران میں پتکن کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر مارٹر گولوں اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا جس سے دشمن کو بھاری جانی ومالی نقصان پہنچا۔ واشک میں سرمچاروں نے شمسی ایئربیس پر متعدد بی ایم 12 راکٹ داغے جو کامیابی سے اپنے اہداف پر لگے۔ کوئٹہ، مغربی بائی پاس پر گیس پائپ لائن کو بارودی مواد سے تباہ کردیا گیا۔
بی ایل اے کاترجمان کا کہنا تھا کہ 31 مارچ: سبی میں مواصلاتی ٹاور کو تباہ کردیا گیا۔ کیچ کے علاقے دشت، کڈان میں سرمچاروں نے علاقے کا کنٹرول حاصل کیا اور لیویز اسٹیشن ونادرا دفتر پر کنٹرول کے بعد ان کا اسلحہ تحویل میں لیا۔ قابض فوج کے کیمپ اور بکتر بند گاڑی پر حملوں میں مجموعی طور پر سات اہلکار ہلاک ہوگئے۔ قلات کے شہر منگچر میں سرمچاروں نے بیک وقت نو مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا، ان حملوں میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے۔ منگچر کالج میں قابض فوج کے مرکزی کیمپ کو بی ایل اے کی فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR) نے پانچ ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جس سے تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ سوراب، بینچہ کے مقام پر گھات لگا کر کیئے گئے حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک ہوئے۔ مستونگ، لکپاس کے مقام پر پوسٹ پر حملے میں چار اہلکار ہلاک ہوئے۔ کمبیلا میں ریڈار سسٹم تباہ کیا گیا اور دو اہلکار ہلاک ہوئے۔ مَرو میں مرکزی کیمپ پر حملے میں تین اہلکار ہلاک ہوئے۔ اسپلنجی میں بی ایل اے سنائپر نے ایک اہلکار کو ہلاک کردیا۔ مستونگ کے علاقے گرگینہ میں دو پوسٹوں پر حملے میں تین اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ کوئٹہ-تفتان شاہراہ کو چار گھنٹوں تک کنٹرول میں لیا گیا۔ تربت میں ایم آئی دفتر پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغے گئے۔ کوئٹہ، ہزار گنجی میں ایم آئی ایجنٹ احتشام گجر کو ہلاک کردیا گیا۔
جیئند بلوچ نے کہا کہ یکم اپریل کو زامران، نوانو میں قابض فوج کے لیے راشن لے جانے والی گاڑی ناکارہ بنائی گئی اور موٹر سائیکل سوار اہلکاروں کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا۔ نوشکی میں خالی فوجی پوسٹ کو بارودی مواد سے تباہ کردیا۔
ان کارروائیوں میں تنظیم کے شہید ساتھیوں کی تفصیلات کی جاری کردیئے گئے ۔
ترجمان نے شہداء کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہید سنگت زاہد عرف نواز ولد شیر محمد، پنجگور کے علاقے گچک سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ 2016 میں مسلح جہد آزادی سے منسلک ہوئے جبکہ 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بنے۔ سنگت زاہد ایک نڈر جنگجو اور تجربہ کار سرمچار تھے جنہوں نے گچک، کیلکور، اورناچ، رخشان اور پنجگور کے محاذوں پر دشمن کے دانت کھٹے کیئے۔ شہید سنگت سعید اللہ عرف معراج ولد عدل جان کا تعلق واشک کے علاقے راغے سے تھا، وہ 21 اپریل 2025 کو بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے اور گوارگو اور پنجگور کے محاذوں پر ہراول دستے کے طور پر اپنی جرات کا لوہا منوایا۔ شہید سنگت جہانزیب عرف کمبر ولد بہرام پنجگور کے علاقے نوک آباد، تسپ سے تعلق رکھتے تھے، آپ جنوری 2025 میں بی ایل اے سے منسلک ہوکر قومی آزادی کے جہد کا حصہ بنے۔ آپ کی فکری وابستگی اور عسکری لگن نے ناگاہو اور پنجگور کے محاذوں پر دشمن کو شدید ہزیمت سے دوچار کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید سنگت عامر عرف خالد ولد ڈاکٹر عبدالوحید کا تعلق پنجگور کے علاقے خدابادان سے تھا، وہ 2022 سے بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے اور بطور شہری گوریلا قومی آزادی کیلئے برسرپیکار ہوئے، 2024 میں وہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے اور کیلکور، گوارگور، پروم، اور پنجگور کے محاذوں پر گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ شہید سنگت صدام عرف شاویز ولد الطاف کا تعلق کیچ کے علاقے کلگ سے تھا، وہ 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے، آپ ایک جفاکش سرمچار تھے جنہوں نے مختصر وقت میں اپنی عسکری مہارت سے دشمن کے خلاف کئی کامیاب مشن مکمل کیے۔ شہید سنگت عبدوست عزیر (عبدالرحمان) عرف المان ولد مُلا اصغر کا تعلق تمپ کے علاقے کوھاڈ سے تھا، وہ 2018 میں بلوچ مسلح جہد آزادی کا حصہ بنے اور 2019 میں بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے۔ آپ بی ایل اے کے ایلیٹ یونٹ "فتح اسکواڈ” کے رکن تھے اور اپنی جنگی صلاحیتوں کے باعث ہراول دستے کا حصہ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سنگت عبدوست جہد مسلسل کا عملی نمونہ تھے، قابض فوج نے اپنے آلہ کاروں کے ذریعے آپ کے چچا مصدق کو شہید کرنے سمیت آپ کے خاندان کو اجتماعی سزا کے طور پر نشانہ بنایا تاہم آپ آزادی کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ سنگت عبدوست کی پرورش ان کی والدہ بی بی عمیرہ نے کی جو آزادی فکر رکھتی تھیں، آپ نے نہ صرف اپنے بیٹے کی نظریاتی پرورش کی بلکہ ہمیشہ بلوچ جہد کاروں کے کمکار کے طور پر پیش پیش رہیں۔
آخر میں بیان میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی، "ڈیتھ اسکواڈز” سے منسلک افراد کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے بلوچ کش اعمال کو ترک کرکے سرینڈر کریں بصورت دیگر ان کے خلاف بلوچ لبریشن آرمی بھرپور طاقت کا استعمال کرکے انہیں منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ ان مربوط حملوں کے دوران جھل مگسی میں قابض فوج نے عوام کو بطور ڈھال استعمال کرنے کی کوشش کی لہٰذا عوام قابض فوج سے محفوظ فاصلہ اختیار کریں۔ ہماری یہ تزویراتی جنگ اور مربوط حملے آزاد و خود مختار بلوچستان کی بحالی تک اپنی پوری قوت اور شدت کے ساتھ جاری رہیں گے۔