بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کی سنگین جرائم سے معاشرے میں انسانی بحران نے جنم لیاہے ۔
بدھ اور جمعرات کے روز بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور خضدار سے فورسزنے 5 نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے۔
کوئٹہ سے جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت سلمان بلوچ ولد عبدالصمد،ساحر بلوچ ولد عبدالغنی،دلیپ جان ولد پیر محمد، فراز ولد حاجی پازل اور حزیف ولد غفارکے نام سے ہوئی ہے۔
سلمان بلوچ اور ساحر بلوچ کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے گومازی تمپ اور ہوت آباد سے ہے جبکہ دلیپ جان کا تعلق آواران، فراز بلوچ کا پنجگور اورحزیف بلوچ کا ضلع خضدارنالسے بتایا جاتاہے۔
ذرائع کے مطابق پنجگور کے رہائشی فرازبلوچ کو 5 نومبر کی صبح کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے فورسز نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ حراست کے بعد سے اب تک فراز کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اسی طرح سلمان بلوچ ،ساحر بلوچ، دلیپ جان اور حزیف بلوچ کو 6 اور 5 نومبر کو کوئٹہ اور خضدار سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات طویل عرصے سے ایک سنگین انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ گمشدہ افراد کے مسئلے کو شفاف طریقے سے حل کیا جائے۔