ضلع ڈیرہ بگٹی: سوئی میں پاکستانی فورسز ہاتھوں 4 افراد جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں پاکستانی فورسز نے 4 افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جن کے بارے میں اب کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب دریحان کالونی میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے چھاپہ مار کر 2 نوجوانوں کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔

لاپتہ نوجوانوں کی شناخت امام داد ولد کرمان بگٹی اور جان محمد ولد دادان بگٹی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

دونوں کا تعلق بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخ موندانی سے بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق لاپتہ نوجوان معروف مقامی ٹھیکیدار سیٹھ جمعہ خان گرانی بگٹی کے بھتیجے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق چھاپے کے دوران سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گھروں سے تین شاٹ گنیں، خواتین کے زیورات اور دیگر قیمتی سامان بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔

مزید اطلاعات کے مطابق ٹھیکیدار جمعہ خان سے سی ٹی ڈی کے ایس ایچ او عمر کھوسہ نے مبینہ طور پر دس لاکھ روپے ماہانہ بھتہ طلب کیا تھا۔ رقم دینے سے انکار پر اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مار کر لوٹ مار کی اور ان کے بھتیجوں کو جبری کا نشانہ بنایا۔

اسی طرح سوئی کے تحصیل بازار سے بھی سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مزید 2 نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

جن کی شناخت قمبر ولد راحک بگٹی اور ملہار ولد کشمیر بگٹی کے ناموں سے ہوگئی ہے۔

Share This Article