خاران سے لیویز اہلکار،زہری سے لاپتہ راشد حسین کے کزن جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے خاران سے پاکستانی فورسز نے بشیر احمد کبدانی نامی ایک لیویز اہلکارجبکہ ضلع خضدار کے علاقے زہری سے منان قادرنامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جو سالوں سے جبری لاپتہ راشد حسین کے کزن بتائے جاتے ہیں۔

خاران سے اطلاعات ہیں کہ سی ٹی ڈی و خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ایک مقامی بلوچ لیویز اہلکار کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا ہے۔

لیویز اہلکار کی شناخت بشیر احمد کبدانی ولد حاجی محمد حسین کبدانی سکنہ خاران کے طور پر ہوئی ہے۔

ذرائع نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 19 اکتوبر کو رات قریب 11 بجے تین گاڑیوں میں سوار کم از کم 6 نقاب پوش افراد بشیر احمد کے گھر میں داخل ہوئے اور بشیر احمد کو ماورائے عدالت حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔

فیملی کے مطابق نقاب پوش افراد سی ٹی ڈی کے اہلکار ظاہر ہورہے تھے۔

فیملی ذرائع کے مطابق 5 روز گزرنے کے باوجود بشیراحمد کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔

فیملی نے اپنے جاری کردہ بیان میں سرکاری حکام بشمول ڈی سی و ڈی پی او خاران سمیت ڈی آئی جی رخشان و دیگر متعلقہ افسران سے اپیل کی ہے کہ بشیر احمد کبدانی کو جلد بازیاب کرایا جائے۔

دوسری جانب ضلع خضدار سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فورسز کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

علاقے سے ذرائع کے مطابق پانچ روز قبل فورسز نے گزان کے قریب 2018 سے جبری لاپتہ راشد حسین کے رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے مارے، جس دوران ان کے کزن منان قادر ولد عبدالقادر میروزئی سمیت متعدد دیگر رشتہ داروں کو حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے۔

ذرائع کے مطابق اس دوران فورسز نے گھروں پر فائرنگ کی اور خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار کیے گئے بیشتر افراد کو بعد ازاں رہا کردیا گیا ہے، تاہم منان قادر تاحال پاکستانی فورسز کی تحویل میں ہیں۔

Share This Article