پاکستان کی وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دیدی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم جماعت قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری جمعرات کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے 17 اکتوبر کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سفارش کے حوالے سے وفاقی حکومت کو سمری بھیجی تھی۔

پابندی کی یہ سفارش تحریک لبیک کی جانب سے پنجاب میں کیے گئے حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے بعد کی گئی تھی۔ ان پرتشدد مظاہروں میں پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

ٹی ایل پی نے غزہ امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرنے کے لیے لاہور سے اسلام آباد کی جانب ’غزہ مارچ‘ کا آغاز کیا تھا اور لاہور میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد مریدکے کے مقام پر پولیس اور مظاہرین کے مابین دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔

مریدکے واقعے کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت اور کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا اور پنجاب پولیس کے مطابق اب تک صوبے بھر سے اس جماعت کے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ تحریکِ لبیک پاکستان کو پابندی کا سامنا ہے۔ سنہ 2021 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے اس جماعت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی تھی۔ تاہم صرف سات ماہ کے عرصے کے بعد ٹی ایل پی کے احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت نے ایک معاہدے کے تحت یہ پابندی ہٹا دی تھی۔

یاد رہے کہ بطورِ سیاسی جماعت تحریکِ لبیک الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسرڈ ہے اور جماعت نے 2024 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔

وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر ٹی ایل پی کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دینے کی منظوری دی ہے۔

اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ کو ملک میں ٹی ایل پی کی پُرتشدد اور مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی اور اس موقع پر حکومت پنجاب کے اعلیٰ افسران بذریعہ ویڈیو لنک کابینہ کے اجلاس میں شریک رہے۔

وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ ’سنہ 2016 میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے پورے ملک میں شر انگیزی کو ہوا دی۔ تنظیم کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں شر انگیزی کے واقعات میں ہوئے۔ 2021 میں بھی اس وقت کی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی، جو چھ ماہ بعد اس شرط پر ہٹائی گئی کہ آئندہ ملک میں بدامنی اور پر تشدد کاروائیاں نہیں کی جائیں گی۔ تنظیم پر پابندی کی وجہ 2021 میں دی گئی ضمانتوں سے روگردانی بھی ہے۔‘

اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچی کہ ٹی ایل پی دہشت گردی اور پرتشدد کاروائیوں میں ملوث ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں وفاقی حکومت کسی بھی سیاسی جماعت پر آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت پابندی عائد کرنے کی کارروائی کر سکتی ہے اور اس ضمن میں وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج شائق عثمانی نے اس حوالے سے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ ’آئین کا آرٹیکل 17 یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت پاکستان کی خودمختاری یا ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہو تو اس سیاسی جماعت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد 15 دن میں سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس دائر کرنا ہوتا ہے اور اگر سپریم کورٹ یہ سمجھتی ہے کہ حکومت کے پاس موجود ثبوت کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کی کارروائی کے لیے کافی ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کو حکم دے سکتی ہے کہ اس سیاسی جماعت کو تحلیل کر دیا جائے۔

Share This Article