پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں عوامی احتجاج کے پیش نظرموبائل ولینڈ لائن فونزاورانٹرنیٹ سروسز بند

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھر میں جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکات پر مشتمل مطالبات پورے نہ ہونے پر29 ستمبر کو غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاون کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پورے علاقے میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس اور لینڈ لائن فون بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

لینڈلائن فون بند ہونے کے باعث شہریوں کا باہر کی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس ہڑتال کی کال کو واپس لینے اور مطالبات کے حل کے لیے حکومت پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کی مقامی حکومت نے 25 ستمبر کو مظفرآباد میں عوامی ایکشن کمیٹی سے مزاکرات کیے تھے جو بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ناکام ہو گئے تھے۔

مزاکرات میں ناکامی کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے 29 ستمبر کشمیر بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا دوبارہ اعلان کیا تھا۔

جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، علاج معالجہ کی مفت سہولیات، یکساں و مفت تعلیم کی فراہمی،انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام شامل کیا ہے۔

اس کے علاوہ مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی نظام میں اصلاحات بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔

حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دوران مذاکرات کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر کچھ مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے مزاکرات ناکام ہوئے تھے۔

پاکستان کے وزیر امور کشمیر امیر مقام نے جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دعویٰ کیا کہ ’ایکشن کمیٹی کے ساتھ دوران مذاکرات تمام عوامی مطالبات مان لیے گئے تھے مگر کشمیر کے اندر آئینی معاملات کو ہم ایک کمرے میں بیٹھے کر کیسے تسلیم کر سکتے تھے۔‘

ان کے مطابق ’وہ اختیار ہمارے پاس نہیں بلکہ اسمبلی کے پاس ہے۔ ان کے بیشتر مطالبات، جو آئین و قانون کے دائرہ کار میں آتے تھے اور جن کا تعلق کشمیری عوام کی بہتری سے تھا، خواہ وہ مرکزی حکومت سے متعلق تھے یا کشمیر حکومت سے، مان لیے گئے۔ آخر میں ایکشن کمیٹی نے کچھ غیر قانونی مطالبات رکھ دیے، جن میں کشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ بھی شامل تھا۔‘

امیر مقام نے کہا کہ ’کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ آئینی اور قانونی معاملہ ہے، آپ عوام کا مینڈیٹ لے کر الیکشن جیتیں اور اسمبلی میں آئیں، پھرترامیم کرائیں، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔‘

یاد رہے کہ اس وقت عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ دران ڈور ٹو ڈور اس ہڑتال کو کامیاب بنانے کی مہم چلا رہے ہیں جبکہ پاکستان سے رینجرز کی گاڑیاں کشمیر کے مختلف اضلاع میں پہنچا دی گئی ہیں، جسے مقامی سطح پر ممکنہ احتجاجی لہر سے نمٹنے کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں پولیس اور رینجیرز نے مشترکہ طور پر فلیگ مارچ بھی کیے۔

دارالحکومت مظفرآباد میں مظاہرین نے رینجرز کی گاڑیاں روک کر نعرے بازی بھی کی۔

Share This Article