سابق برطانوی وزیرِاعظم سر ٹونی بلیئر کے بارے میں مُمکنہ طور پر اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے بعد ایک عبوری انتظامیہ کی قیادت کریں گے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس تجویز میں وائٹ ہاؤس کی حمایت اور مرضی بھی شامل ہے۔ غزہ میں جنگ کے بعد ٹونی بلیئر اقوامِ متحدہ اور خلیجی ممالک کی حمایت سے ایک حکومتی اتھارٹی کی قیادت کریں گے اور بعد میں اس کا کنٹرول واپس فلسطینیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔
تاہم سابق برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی ایسی تجویز کی حمایت نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں غزہ کے عوام کو بے دخل کیا جائے۔
سر ٹونی بلیئر جن کی سربراہی میں سنہ 2003 میں برطانیہ عراق جنگ میں شامل ہوا تھا، غزہ کے مستقبل کے بارے میں امریکہ اور دیگر فریقوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی منصوبہ بندی کی بات چیت کا حصہ رہے ہیں۔
اگست میں انھوں نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات میں شرکت کی تاکہ اس خطے کے منصوبوں پر بات چیت کی جا سکے، جسے امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے ’انتہائی جامع‘ قرار دیا، اگرچہ اس ملاقات کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں تھیں۔
سنہ2007 میں عہدہ چھوڑنے کے بعد بلیئر نے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی کے طور پر امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوامِ متحدہ کی نمائندگی کی۔ ان کی توجہ فلسطین میں معاشی ترقی لانے اور دو ریاستی حل کے لیے حالات پیدا کرنے پر مرکوز رہی۔
وزیراعظم کے طور پر انھوں نے سنہ 2003 کی عراق جنگ میں برطانوی فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا جسے اس تنازع پر سرکاری انکوائری میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس انکوائری میں سامنے آیا کہ انھوں نے ناقص خفیہ معلومات پر عمل کیا اور وہاں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں تحقیق کے بغیر فیصلہ لیا۔
غزہ کے لیے ایک عبوری انتظامیہ میں ان کی شمولیت سے متعلق بات چیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعرات کو کہا کہ وہ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ دو ریاستی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
عباس نے اس بات پر زور دیا کہ وہ غزہ میں مستقبل کی حکومتی قیادت کے لیے حماس کے کردار کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔