بارڈرتجارت سے وابستہ افراد کا حکومت سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ایران سے بارڈر ٹریڈ سے وابستہ کاروباری افراد ضیاء عبدالکریم، سردار ولی یلان زئی، حاجی ناصر بلوچ، حاجی اکبر بلوچ و دیگر نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان حکومت، ایف سی اور ضلعی انتظامیہ سے بارڈر کاروبار پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر بارڈر ٹریڈ سے وابستہ لوگ مجبوراً سخت قدم اٹھائیں گے۔

کاروباری شخصیات نے کہا کہ ضلع کیچ ایک سرحدی علاقہ ہے، جہاں عوام صدیوں سے بارڈر ٹریڈ کے ذریعے اپنی گزر بسر کرتے آرہے ہیں، لیکن حکومتی پابندیوں اور پالیسیوں نے اس کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے لوگ شدید معاشی مشکلات اور نان شبینہ کے محتاج ہیں۔ ان کے مطابق ضلع کیچ کے بیشتر خاندان اپنی روزمرہ ضروریات، بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات اسی تجارت سے پورے کرتے ہیں، مگر بار بار کی رکاوٹوں اور بندش سے عوام سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

مقررین نے کہا کہ ایرانی سرحد پاکستان بننے سے پہلے سے مقامی معیشت کا بڑا سہارا رہی ہے۔ ہم کسی ایسے واقعے کی حمایت نہیں کرتے جو ملکی سالمیت کے خلاف ہو، لیکن فورسز پر حملوں کے بعد بارڈر بند کرنا عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بارڈر کی بندش سے نہ سیکیورٹی مسئلہ حل ہوگا بلکہ عوام مزید متنفر ہوں گے، اور مختلف جرائم جنم لے سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جلد عملی اقدامات نہ کیے تو ضلع کیچ کے ہزاروں افراد بے روزگار اور بھوک و افلاس کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے پاس نوجوانوں کے لیے روزگار کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں، ایسے میں عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ اس لیے بلوچستان حکومت، سول انتظامیہ اور سیکورٹی ادارے بارڈر بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندیاں فی الفور ختم کریں۔

Share This Article