تربت: جبری لاپتہ 2 نوجوان قتل ، لاشیں ورثا کے حوالے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پاکستانی فورسز نے 2 جبری لاپتہ نوجوانوں کو دوران حراست ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشیں ورثا کے حوالے کردیں۔

جمعہ کے روز فرنٹیئر کور (ایف سی) نے 4 لاشیں تربت شہر کے ٹیچنگ اسپتال منتقل کیں، جن میں سے 2 کی شناخت کے بعد انہیں ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔

مقتولین کی شناخت عبدالستار ولد جام خالد اور طارق علی ولد حاجی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو 19 نومبر 2024 کو ضلع گوادر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

ان کا تعلق ضلع کیچ کی تحصیل دشت شولیگ سے بتایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ دشت میں 16 اور 18 ستمبر میں فورسز پر دو مختلف مہلک حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔دونوں حملوں کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں بی ایل ایف اور بی ایل اے قبول کر چکی ہیں۔

دونوں حملوں میں درجنوں کی تعداد میں فورسز اہلکاروں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا جس میں افسران بھی شامل تھے ۔

18 ستمبر کے واقعہ کے بعدفورسز نے 4 لاشیں تربت ہسپتال پہنچادیں اور دعویٰ کیا کہ فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حسب روایت فورسز نے اپنی ناکامی چھپانے اور انتقامی روش کے تحت پہلے سے جبری لاپتہ نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں قتل کرکے ان کی لاشیں ہسپتال منتقل کیں۔

چونکہ فورسز پر مہلک حملے دشت میں ہوئے اور پہلے سے جبری لاپتہ دونوں نوجوانوں کا تعلق بھی دشت سے تھا ۔اب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ انہیں چن کر قتل کردیا گیا ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق دونوں کی نمازِ جنازہ آج (ہفتہ) شام 4 بجے دشت شولیگ کے قبرستان میں ادا کی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article