بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے قائم دنیا کی طویل پرامن احتجاجی کیمپ آج بروز جمعہ تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 5933 ویں روز جاری رہی۔
بلوچ صحافی نیاز محمد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بساط کے مطابق ہر فورم پر جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گی۔
دریں اثنا جبری لاپتہ جہانزیب محمد حسنی کی والدہ اور بیٹی نے بیٹی آج احتجاج میں شرکت کی، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انہوں نے کہا کہ وہ جہانزیب کی باحفاظت بازیابی کے لیے کئی سالوں سے انصاف کے فراہمی کے لیے بنائے گئے اداروں کے دروازوں پر دستک دینے کے ساتھ ساتھ اپنا پرامن احتجاج بھی ریکارڈ کراتے آرہے ہیں، تاکہ ہمیں ملکی قوانین کے تحت انصاف مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک ہمیں ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم کرنے کے حوالے سے کسی بھی سطح پر کسی نے بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا، انہوں نے ایک دفعہ پھر اعلی حکام سے اپیل کی انہیں جہانزیب محمد حسنی کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جائے۔
واضع رہے کہ جہانزیب محمد حسنی کو 3 مئی 2016 میں کلی قمبرانی کوئٹہ سے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے غیر قانونی حراست کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ایگزیگٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کی، کہ جہانزیب محمد حسنی پر کوئی الزام ہے تو انہیں منْظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیاجائے، اور اگر بےقصور ہے تو انکی بازیابی میں اپنی کردار ادا کرکے انکے خاندان کو زندگی بھر اذیت سے نجات دلائی جائے۔