کوئٹہ میں افغان مہاجرین اسکولوں کو سیل، اساتذہ و طلبا کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہرکوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، تمام سب ڈویڑنز کے اسسٹنٹ کمشنرز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل و فیمیل)، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے زیر انتظام اسکولوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بتایا گیا کہ یہ اسکول افغان مہاجرین نے قائم کیے ہیں جن میں اساتذہ اور طلبا بھی افغان شہری ہیں۔

یہ اسکول زیادہ تر ہزارہ ٹائون، پشتون آباد، علمدار روڈ، کرانی اور قمبرانی کے علاقوں میں واقع ہیں۔

متعلقہ افسران نے ان اسکولوں کا دورہ کرکے تفصیلی ڈیٹا جمع کیا جس میں اساتذہ اور طلبا کی تعداد بھی شامل ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق ان اسکولوں کو سیل کیا جائے گا اور اساتذہ و طلبا کو ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

اجلاس میں نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے بھی تفصیلی بات چیت اور فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ کے مختلف اسکولوں میں تجاوزات کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے چشمہ اچوزئی اسکول اور نواب اکبر خان بگٹی اسکول سے تمام تجاوزات ختم کرنے کی رپورٹ پیش کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ باقی اسکولوں میں بھی ایک ہفتے کے اندر تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

Share This Article