بلوچستان کے بلدیاتی اداروں کے فنڈ روک دیئے گئے۔
ڈیولپمنٹ اور نان ڈیولپمنٹ سمیت ملازمین کی تنخواہیں بھی معطل ہوگئی ہیں، 2ماہ سے فنڈز کی عدم فراہمی کے سبب بلوچستان بھر کے بلدیاتی اداروں میں مالیاتی بحران نے سنگین صورتحال اختیار کر لی۔
کم آمدن والے علاقوں کے بلدیاتی اداروں کو روز مرہ کے کام جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب چھوٹے ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے ۔
اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ بلوچستان حکومت اور محکمہ خزانہ کی جانب سے بلوچستان کے بلدیاتی اداروں کو ماہوار ادائیگیوں کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کیلئے ”سیف سسٹم ” لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسکی وجہ سے بلوچستان بھر کے بلدیاتی اداورں کو پچھلے 2مہینوں سے نہ صرف ڈیولپمنٹ اور نان ڈیولپمنٹ بلکہ ملازمین کی سیلری کی مد میں دی جانے والی ماہوار گرانٹ روک رکھی ہے۔
فنڈز کے تعطل کے نتیجے میں اپنی آمدن کے محدود وسائل رکھنے والے بلدیاتی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بالخصوص روزمرہ کی صفائی ستھرائی اور چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے پریشانی کا سامنا ہے ۔
جبکہ ودسری جانب جو بلدیاتی ادارے جن کے آن سورس بہتر ہیں وہاں پر روزمرہ کاموں کو چلانے کیلئے وسائل بھی محدود ہو کر رہ گئے ہیں لیکن ملازمین کی تنخواہیں نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر بھی مسائل جنم لینے لگے ہیں اور چھوٹے ملازمین بشمول ڈیلی ویجز ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین پینشن وغیرہ نہ ملنے کے سبب شدید مالی پریشانی کا شکار ہیں۔