بلوچ آزادی پسندوں اور ٹی ٹی پی کے خلاف متحدہ قومی ردعمل ناگزیر ہے، عاصم منیر

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی پراکسیز کو بھی شکست دی جائے گی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے بیان کے مطابق جنرل عاصم منیر نے یہ بات بدھ کو کوئٹہ میں 16ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف نے’ عسکریت پسندی کے پراکسیوں کی انڈیا کی کھلم کھلا سرپرستی کی شدید مذمت کی اور انہیں بلوچستان کے لوگوں کی گہری جڑوں والی حب الوطنی کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش قرار دیا۔‘

عاصم منیر نے کہا کہ معرکہ حق میں شکست کھانے کے بعد انڈیا نے اب اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی پراکسی جنگ کو بڑھا دیا ہے۔‘

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ’سی او اے ایس‘نے کہا کہ ’ان پراکسیوں کو اسی طرح کا انجام اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ معرکہ حق میں ہوا۔‘

آرمی چیف نے کہا کہ بھارت اپنی ہائبرڈ وار کے تحت ’فتنہ الخوارج‘ (ٹی ٹی پی)اور ’فتنۂ ہندوستان‘ (بلوچ آزادی پسند)کو مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے لیکن پاکستانی عوام کی گہری حب الوطنی اس کی تمام سازشوں کو ناکام بنادے گی۔‘

واضع رہے کہ ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنۂ ہندوستان‘ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی رائج کردہ اصطلاحات ہیں جن کے استعمال کے لئے اب میڈیا کو سخت احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔

عاصم منیر نے کہا کہ ’ عسکریت پسند نہ مذہب دیکھتے ہیں، نہ فرقہ اور نہ ہی قومیت، اس لیے ان کے مقابلے کے لیے متحدہ قومی ردعمل ناگزیر ہے۔‘

آرمی چیف نے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کو قومی یکجہتی کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بین الادارہ جاتی تعاون اور مربوط قومی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان علاقائی امن کے لیے پرعزم ہے تاہم داخلی اور خارجی خطرات کی صورت میں ملک بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

پاکستانی حکومت و عسکری اسٹیبلشمنٹ کہنا ہے کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہے تاہم انڈیا اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

Share This Article