پاکستان کی وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردوں کے اکاؤنٹس کو بند کریں اور ڈیٹا شیئر کریں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیر مملکت برائے قانون عقیل ملک کے ساتھ پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا کمپنیوں سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فرضی اکاؤنٹس کو بند کریں اور فرضی اکاونٹس چلانے والے افراد کا ڈیٹا بھی وفاقی حکومت کے ساتھ شیئر کریں۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی سے متعلق دو ہزار 417 شکایات زیر غور ہیں۔
انھوں نے بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا کہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیلات دیں اور جعلی اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کریں۔
وزیر مملکت عقیل ملک نے کہا کہ اب تک حکومت نے اس قسم کے 481 اکاؤنٹس کا پتہ لگایا ہے۔
انھوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے اکاؤنٹس کو نہ صرف رپورٹ کریں بلکہ انھیں بلاک بھی کریں۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکو یہ پیشکش بھی کی کہ پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں تاکہ بہتر رابطہ ممکن ہو سکے گا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم آزادی اظہار پر قدغن نہیں لگا رہے بلکہ ہم دہشت گردی کے سامنے دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔
واضع رہے کہ پاکستان کی حکومت اور عسکری اسٹیبلشمنٹ دہشتگردی کے بیانیہ کے آڑ میں انسانی حقوق کے علمبردار اور آزادی اظہارپر یقین رکھنے والے افراد جو ریاست کی غیر انسانی و غیر قانونی اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں کو دہشتگردی نظریہ کے طور پر دیکھتی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے اکائونٹ کو بھی رپورٹ کررہی ہے ۔