تربت: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ذیشان زہیر کے قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان نیشنل پارٹی کیچ کے زیر اہتمام بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ذیشان ظہیر کے قتل،اور بی این پی وبی وائی سی کے قائدین کی گرفتاریوں اور ناجائز مقدمات کیخلاف تربت شہر میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔

احتجاجی مظاہرے سے بی این پی کے مرکزی سینٹرل کمیٹی کے رکن ڈاکٹر غفور بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی قائدین وکارکنان کی گرفتاری اور جبری گمشدگیاں قابل مذمت ہیں،لوگوں کو جینے کا حق دیا جائے،اور آوازوں کو دبانا قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو اس طرح چلانے سے حالات بجائے بہتری کی جانب جائیں بلکہ بدتری کی جانب جا رہے ہیں،لوگوں کو سناجائے سیاسی قیادت کو جعلی مقدمات میں پھنسانا غیر جمہوری عمل ہے۔

بی وائی سی کیچ کے رہنماء سید بی بی بلوچ نے کہاکہ بی وائی سی کے قائدین کو جعلی مقدمات میں پھنساکر انکے آواز کو دبانے کی کوشش ناکام ہوگی، قائدین قید وبند کی صعوبتوں سے اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ انکے حوصلے آج بھی بلند ہیں،بلوچ قوم کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مشکل کی گھڑی میں بی وائی سی کے ہاتھوں کو مضبوط کریں اور ساتھ دیں۔

بی این پی کیچ کے قائمقام صدر حاجی عبدالعزیز بلوچ نے کہاکہ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی بدولت حالات بد تری کی جانب بڑھ رہےہیں، بلوچ قوم سے زندگی کا حق چھینا جا رہا ہے۔

نصیر احمد گچکی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی غیر جمہوری قوتوں کی پیداوار ہے اور غیر جمہوری قوتوں کے بل بوتے پر ہمیشہ اقتدار میں آئی ہے، بلوچستان میں انکی سربراہی میں ظلم وزیادتیاں انہی کی سرپرستی میں جاری ہیں۔پیپلزپارٹی بلوچ بلوچستان دشمن پارٹی رہی ہے اور آج بھی اسی پر عمل پیرا ہے۔

مکران بار ایسوسی ایشن کے صدرایڈوکیٹ محراب گچکی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں نے ملک کو انتشار وتباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے مگر ہم انکے سامنے سیاسی مزاحمت کو جاری رکھیں گے، آج بی این پی سمیت بی وائی سی کیلے قائدین کو اسی سیاسی مزاحمت کی سزا دی جارہی ہے مگر ہم مظالم کے سامنے خوش نہیں رہیں گے۔

اس موقع پر بی این پی کے خاتون سیکرٹری یاسمین رؤف نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض سیکرٹری جنرل شے ریاض احمد نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔

احتجاجی مظاہرے میں خواتین وبی این پی کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کیا۔اور بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں،ماورائے عدالت قتل،اور پارٹی رہنماؤں پر جعلی مقدمات کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

Share This Article