بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں قلات اور تربت حملوں میں پاکستانی فوج کے 6 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قلات اور تربت میں چار مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں آئی ای ڈی اور براہ راست مسلح حملے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے آج قلات کے علاقے مکئی میں جوہان کراس کے قریب قابض پاکستانی فوج کو دو آئی ای ڈی حملوں میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے پہلے حملے میں قابض فوج کے بم ڈسپوزل ٹیم کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ کلئرینس میں مصروف تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔
دریں اثناء سرمچاروں نے اسی مقام پر قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو ایک اور ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے مزید دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں آج مغرب کے وقت قلات کے علاقے مورگند میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اس وقت اسنائپر حملے میں نشانہ بنایا جب وہ اپنے پوسٹ کے قریب راشن لیجانے کیلئے پہنچے تھے، اسنائپر حملے میں قابض فوج کا ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا۔ اس دوران سرمچاروں نے قابض فوج کے پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے جس کے نتیجے میں دشمن کو مزید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے اتوار کی شب تربت کے علاقے گھنہ میں قابض پاکستانی فوج کے گاڑیوں کے قافلے کو گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا۔ قابض فوج کی دو گاڑیاں براہ راست حملے کی زد میں آئی جبکہ دیگر اہلکار گاڑیوں میں فرار ہوگئے۔ حملے کے نتیجے میں قابض فوج کے کم از کم دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔