کیچ میں دھرنے پر یلغار، جبری گرفتاریاں اور تشدد ریاستی دہشتگردی کا واضح مظاہرہ ہے،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیچ میں بلوچ ڈرائیورز اور مزدوروں کے دھرنے پر ریاستی یلغار، جبری گرفتاریاں اور تشدد ریاستی دہشتگردی کا واضح مظاہرہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ رات ڈی بلوچ، کیچ میں عبدوھی بارڈر کی جبری بندش کے خلاف جاری پرامن دھرنے پر پاکستانی فوج، ایف سی اور پولیس نے ایک بار پھر اپنی نوآبادیاتی فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوتے ہوئے مظاہرین پر بدترین حملہ کیا۔ رات کی تاریکی میں ریاستی فورسز نے دھرنے کے کیمپ پر دھاوا بول کر نہتے بلوچ مزدوروں، ڈرائیورز اور شہریوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اندھا دھند فائرنگ کی، اور کم از کم 14 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ دھرنا عبدوھی بارڈر کی بندش کے خلاف تھا، اس وقت بارڈر بلوچ عوام کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ ہے۔ 19 مارچ سے جاری اس ظالمانہ بندش نے ہزاروں گھرانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے، لیکن ریاستی مشینری کا جواب صرف گولیاں، گرفتاری اور جبر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام پر ریاستی جبر، معاشی ناکہ بندی، اور مسلسل فوجی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان بلوچ نسل کشی میں مزید شدت لانے کا فیصلہ کا کرچکا ہے۔ پرامن احتجاج کا جواب لاٹھیاں، گولیاں اور جبری گمشدگیاں ہیں، یہ صرف ریاستی دہشتگردی نہیں، بلکہ واضح بلوچ نسل کشی ہے جو بلوچ عوام کے وجود، شناخت اور بقا کے خلاف مسلط کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ اس وقت ریاست نے جو جبر و ظلم کا نظام بلوچ قوم پر مسلط کیا ہے اس کے خلاف سماج کے ہر طبقے اور ہر فرد پر اس کے خلاف بغیر کسی مبہم کے مزاحمت فرض اور ذمہ داری ہے۔ جبکہ ہم ریاست پر واضح کرتے ہیں کہ عبدوھی بارڈر فوری طور پر کھولا جائے۔ تمام گرفتار اور لاپتہ مظاہرین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچ عوام کے معاشی اور سیاسی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔

Share This Article