میں سردار اختر مینگل کو بھیجے گئے نوٹس کی شدید مذمت کرتی ہوں، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ میں سردار اختر مینگل کو بھیجے گئے نوٹس کی مذمت کرتی ہوں، جس میں انہیں صرف ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی حمایت کرنے کی وجہ سے ممنوعہ افراد کے مقاصد کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو کب اور کس قانون کے تحت ممنوعہ فرد قرار دیا گیا؟ کون سی نوٹیفیکیشن یا قانونی حکم اس بات کو ثابت کرتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہیں اور یہ آئین، انسانی حقوق اور انصاف کی خود خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آج کوئی قانون توڑ رہا ہے تو وہ ریاستی ادارے ہیں جو شہریوں کو اغوا کرتے ہیں، ان کے خاندانوں پر تشدد کرتے ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سردار اختر مینگل کو بیجھے گئے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ کب سے سے مظلوموں کی حمایت کرنا جرم بن گیا؟ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ بلوچستان کی بیٹی ہیں، اور ان کی جدوجہد انسانیت، انصاف، اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہے، نہ کہ کسی غیر قانونی ایجنڈے کے لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اختر مینگل کو یہ بے بنیاد نوٹس اور الزامات ہمیں خاموش کرنے کی کوششیں ہیں، مگر سچ کو کبھی خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ ہم ہر مظلوم شخص کے ساتھ کھڑے ہیں اور انصاف کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

Share This Article