بلوچستان کے ضلع گوادر کے تحصیل پسنی کے علاقے ڈنڈو کلانچ کے رہائشی واحد بخش نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے زاہد علی کو منشیات فروش گروہ نے اغواء اوربہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا، مگر پسنی پولیس ملزمان کی پشت پناہی کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ 28مئی کو شام کے وقت میرے بیٹے زاہد علی کو کھیتوں سے منشیات فروشوں نے اٹھایا کہ ہم تحقیقات کریں گے یہ ہمارے مال پکڑوانے میں ملوث ہے یانہیں، مگر 30مئی کومیرے بیٹے کوگولیاں مارکر قتل کردیاگیا، چونکہ ملزمان بااثر ہیں میرے بیٹے کے قتل کے بعد نامزد ملزم کو پولیس کی پشت پناہی کے باعث عدالت سے انہیں ضمانت مل چکی ہے۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کااظہار کیاکہ میں ابھی تک اپنے بیٹے کے فاتحہ پربیٹھا تھاکہ ادھر میرے بیٹے کے قتل میں ملوث ملزمان کو ضمانت مل گئی، کسی موٹرسائیکل چور کو دسویں روز ضمانت نہیں مل جاتی مگر قاتل کومل جاتی ہے جس سے انصاف پر سے عوام کااعتماد اٹھتا جارہاہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک طرف میرے بیٹے کو اٹھاکر قتل کیاگیا دوسری طرف ایک ویڈیو شائع کرائی گئی ہے جس میں میرے بیٹے کے قتل کو مسلح تنظیم سے جوڑا گیا ہے، یہ ویڈیو منشیات فروشوں نے میرے بیٹے پر تشدد کرکے ان سے زبردستی ریکارڈ کروائی گئی ہے جس میں میرے بیٹے کو یہ کہنے پر مجبور کیاگیا ہے کہ میں پہلے مسلح تنظیم میں تھا پھر میں نے سرینڈر کیا اور 2آپریشنوں میں مخبری کی ہے یہ سراسر جھوٹ، بے بنیاد اورمن گھڑت ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کے قاتل منشیات فروش ہیں، اس لئے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی ودیگر اعلیٰ حکام مجھے انصاف دلائیں اورمیرے بیٹے کے قاتلوں کو گرفتارکرکے قرار واقعی سزا دلوائیں۔