بلوچستان کے علاقے بولان میں پاکستانی فورسز نے ایک نوجوان کوجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔جبکہ قلات میں فورسز نے نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا اور لاش پھینک دی ۔
گذشتہ شب ضلع بولان سے فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے۔
فورسز نے بولان کے علاقے پیر اسماعیل سے نجيب سمالانی ولد نورالحق سمالانی کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد سے وہ منظرعام پر نہیں آسکے ہیں۔
دوسری جانب ضلع قلات کے علاقے منگچر کے گاؤں چوٹانک میں جاری فوجی جارحیت کے دوران ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد قتل کردیا گیا۔
مقتول کی شناخت سعود نیچاری کے نام سے ہوئی ہے، جن کی لاش ایک باغ سے برآمد ہوئی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز نے دو دن تک علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے بعد فورسز اہلکار ایک باغ میں داخل ہوئے جو سعود نیچاری کی ملکیت بتایا جاتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فورسز نے سعود کو حراست میں لینے تشدد کے بعد گولیاں مار کر قتل کردیا اور لاش وہی پر چھوڑ گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق سعود نیچاری کے جسم پر چھ گولیوں کے نشانات پائے گئے، واقعے کے بعد لاش مقامی انتظامیہ کے ذریعے اسپتال منتقل کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق بعد ازاں فورسز نے خود مقامی حکام کو اطلاع دی اور ڈپٹی کمشنر و دیگر انتظامی افسران کو بتایا کہ ایک لاش علاقے میں موجود ہے جس کے بعد انتظامیہ موقع پر پہنچی اور لاش کو اسپتال منتقل کیا۔
واضح رہے کہ سعود نیچاری سال 2015 میں پندرہ سال کی عمر میں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے لاپتہ کفایت اللہ نیچاری کے بھائی تھے، جو گذشتہ کئی سالوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہیں۔
خاندان کی جانب سے کفایت اللہ نیچاری کی بازیابی کے لیے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا تھا، جس کے بعد فورسز نے ان کے گھروں پر چھاپے مارے تھے۔
کفایت اللہ نیچاری تاحال لاپتہ ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں۔