غنی بلوچ کی بازیابی کیلئے حکومت کو8 گھنٹوں کی الٹی میٹم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار قلمکاراور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن غنی بلوچ کی ہمشیرہ بی بی سلطانہ نے کہا کہ میرے بھائی کو کوئٹہ سے کراچی جاتے ہوئے خضدار کے مقام پر جبری لاپتہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اہلخانہ پریشانی اور ذہنی کوفت میں مبتلا ہے ہم تمام ریاستی اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غنی بلوچ کو منظر عام پر لایا جائے بصورت دیگر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس موقع پر دیگر بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ غنی بلوچ کوئٹہ سے کراچی جارہے تھے 25 مئی کو راستے میں خضدار کے مقام پر سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں نے انہیں جبری گمشدگی کا شکار بنادیا۔

ہمشیرہ نے کہا کہ غنی بلوچ علم دوست اور کتابوں سے لگاؤ رکھتا تھا” زوار “نامی پبلشنگ کی بنیاد رکھ کر کتابوں کی پبلشنگ کیلئے کراچی جارہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ غنی بلوچ کے بوڑھے ماں باپ ہیں جس کی وجہ سے اہلخانہ کو ذہنی کوفت اور پریشانی کا سامنا ہے ہم سیکورٹی اداروں کے حکام اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غنی بلوچ کو منظر عام پر لاکر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں بصورت دیگر ہم 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ منظر عام پر لایا بصورت دیگر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے راست اقدام اٹھائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور سیکورٹی اداروں پر عائد ہوگی۔

Share This Article