بلوچستان کے علاقے مستونگ اور تربت سے مزید 2 نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے جبری لاپتہ کردیا ہے جبکہ گذشتہ روز تربت کے علاقے بانکِ چڑھائی سے برآمد ہونے والی نعش کی شناخت جبری لاپتہ نوجوان کے طور پر ہوگئی ہے۔
مستونگ سے اطلاعات ہیں کہ کائونٹر ٹیرزم ڈیپارٹمنٹ( سی ٹی ڈی ) نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ہے ۔
نوجوان کی شناخت بابو جان ولد محمد شفا کے نام سے ہوگئی ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے رات گئے کلی بہرام شہی مستونگ میں مذکورہ نوجوان کے گھر پر چھاپہ مارا اور اسے حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد سے اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
اسی طرح ضلع کیچ کے مرکزی شہرتربت کے نواحی علاقہ گوگدان سے تعلق رکھنے والے جماعت نہم کے طالب علم علی اسلم ولد محمد اسلم عثمان گذشتہ روز بدھ کی صبح سے لاپتہ ہیں۔
فیملی کے مطابق وہ صبح ٹیوشن کلاس کے بعد گھر واپس آئے مگر اس کے بعد گھر سے نکل کر لاپتہ ہوگئے ہیں، ان کے فون نمبر بند اور ان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہوپارہا ہے۔
واضع رہے کہ پوری دنیا کو پتہ ہے کہ بلوچستان وپاکستان بھر میں جبری گمشدگیوں میں سیکورٹی فورسز براہ راست ملوث ہیں۔
دوسری جانب گذشتہ روز بدھ کی صبح ضلع کیچ کے مرزکی شہر تربت کے علاقے بانکِ چڑھائی پر مرگاپ کے قریب ملنے والی نعش کی شناخت جبری لاپتہ عبدالواحد ولد صوالی سکنہ ناصر اباد کے نام سے ہوئی ہے جسے ان کے بھائی محمد حسین نے شناخت کیا ہے۔
واضع رہے کہ واحد ولد صوالی کو 3 جون کو تربت شہر سے سول اسپتال کے قریب پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زبردستی ایک گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھے۔
واحد صوالی کی جبری گمشدگی کے واقعہ کے بعد خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ واحد دبئی میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھا اور حال ہی میں چھٹیوں پر واپس آیا تھا۔