بلوچستان کے معروف قبائلی و سماجی رہنما شہید نواب اکبر خان بگٹی کے فرزند نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کراچی میں وفات پا گئے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق وہ کراچی کے نجی اسپتال NMC میں زیرِ علاج تھے، جہاں آج حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث وفات پاگئے۔
بتایا گیا ہے کہ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیے گئے تھے، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی بلوچستان کے بااثر بگٹی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک سنجیدہ، باوقار اور صاف گو شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ بلوچ قوم کے مسائل پر معتدل، حقیقت پسندانہ اور شائستہ اندازِ گفتگو رکھنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
2006 میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ عملی سیاست اور میڈیا میں فعال کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سیاسی محرومیوں جیسے اہم موضوعات پر کھل کر مؤقف پیش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی، تاہم وقتاً فوقتاً میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے مسائل اجاگر کرتے رہے۔
ان کے وفات کی خبر سے بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں رنج و غم کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی حلقوں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے لیے ایک معتدل، سنجیدہ اور باوقار آواز کا بڑا نقصان قرار دیا ہے۔