بلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فورسز نے کمسن نوجوان سمیت 4 افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیاہے۔
ضلع کیچ کے علاقے پیدارک سے گذشتہ روزمنگل 3 جون کو پاکستانی فورسز نے ایک کمسن نوجوان سمیت 3 افراد کو حراست میں لیکر اپنے عقو بت خانوں میں منتقل کردیا جن کے حوالے سے اب کوئی خبر نہیں ہے۔
لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت مولانا سکندر ولد محمد انور ، صدیق ولد سبزل اور ابراہیم ولد محمد یعقوب کے ناموں سے ہوئی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ مولانا سکندر کو گذشتہ شب دو بجے جبکہ صدیق اور ابراہیم کو صبح 6 بجے ان کے گھروں سے حراست میں لیا گیا۔ تینوں افراد پیدارک کے رہائشی اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
اہلِ خانہ نے ان کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے فورسز اہلکاروں نے ایک نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے جس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعہ گزشتہ روز تربت سول اسپتال کے قریب پیش آیا جہاں ناصر آباد کے رہائشی واحد ولد صوالی کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں زبردستی ایک گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق واحد دبئی میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھا اور حال ہی میں چھٹیوں پر واپس آیاتھا۔ انہیں اغوا کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور تاحال ان کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں مل سکا ہے۔
اہلِ خانہ نے واحد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔