بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں ایک نوجوان، اسرار احمد، کی پولیس حراست میں ہلاکت، اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ نوجوان کو پولیس اہلکاروں نے تشدد کے بعد قتل کیا، جبکہ پولیس کا مؤقف ہے کہ اس نے خودکشی کی۔
اسرار احمد کے والد محمد انور کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو چھ روز قبل ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا، تاہم انہیں اس گرفتاری سے متعلق کسی بھی تھانے میں تصدیق نہیں مل سکی۔
محمد انور کے مطابق، “میں نے قریبی تھانوں میں جا کر اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا مگر ہر جگہ یہی کہا گیا کہ وہ ان کی تحویل میں نہیں ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعد ازاں انہیں ایس پی سریاب کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ان کے بیٹے نے مبینہ طور پر اپنے لباس کے نالے سے خودکشی کر لی ہے۔
والد نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “میرے جوان بیٹے کو پولیس اہلکاروں نے پھانسی دے کر مارا ہے، اور اب اس کے قتل کو خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، پولیس حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آیا ہے۔