بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے مرکزی سیکرٹری جنرل دلمراد بلوچ نے کہا ہے کہ عالمی نشریاتی ادارہ بی بی سی پاکستان کے ریاستی بیانیے کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے اور بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے معاملات پر جانبدارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
اپنی تازہ تحریر میں انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام تاریخی طور پر بی بی سی پر اعتماد کرتے آئے ہیں، مگر ادارے کی حالیہ رپورٹنگ نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
دلمراد بلوچ کے مطابق اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے حالیہ اجلاس میں بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جی ایس پی پلس کی شرائط اور ریاستی جبر پر تفصیلی خطاب کیا، مگر بی بی سی نے اس تقریر کو نظرانداز کیا۔
اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ بی بی سی نے عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی اجلاس میں موجودگی کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا اور پاکستانی تجزیہ کاروں سے اس پر گفتگو بھی کی۔
تحریر میں کہا گیا ہے کہ بی این ایم کے نمائندوں نے جنیوا میں مختلف اجلاسوں میں شرکت کی، تقاریر کیں اور ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی بھی کی، مگر بی بی سی نے ان سرگرمیوں پر ایک سطر بھی رپورٹ نہیں کی۔
دلمراد بلوچ کے مطابق یہ خاموشی اس خوف کا نتیجہ ہے کہ بلوچ آزادی پسند تحریک کو عالمی میڈیا میں جگہ ملنے سے پاکستان کے سرکاری بیانیے کو چیلنج درپیش ہوسکتا ہے۔
بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ، جس میں بلوچ سماجی بُنت کو چند ویڈیوز کی بنیاد پر بیان کیا گیا، پر بھی دلمراد بلوچ نے اعتراض اٹھایا۔
ان کے مطابق رپورٹ میں "مبینہ” اور "آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہ ہوسکی” جیسے جملے غیرضروری طور پر استعمال کیے گئے۔
بی بی سی نے بلوچ جہدکاروں اور عوام کے تعلق کو کمزور دکھانے کی کوشش کی، حالانکہ یہ تعلق روزمرہ حقیقت ہے۔
بلوچ سماج کے تجزیے کے لیے کسی بلوچ دانشور یا محقق کی رائے شامل نہیں کی گئی، جبکہ بلوچستان میں ڈاکٹر شاہ محمد مری اور انور ساجدی جیسے معتبر نام موجود ہیں۔
دلمراد بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم کبھی شناخت کے بحران کا شکار نہیں رہی۔ ان کے مطابق بلوچ معاشرہ بنیادی طور پر سیکولر مزاج رکھتا ہے، اور قوم پرست تحریک کی بنیاد مذہبی عقائد نہیں بلکہ قومی شناخت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بلوچ شناخت کو کمزور کرنے کے لیے کئی حربے آزمائے، مگر یہ نظریہ اب "خون سے سیراب” ہوکر مزید مضبوط ہوچکا ہے۔
اپنی تحریر کے آخر میں دلمراد بلوچ نے بی بی سی سے اپیل کی کہ اگر وہ بلوچ قوم میں اپنا احترام برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنے رویے پر نظرثانی کرنی ہوگی۔