بلوچستان کے علاقے مستونگ اور پنجگور سے پاکستانی فورسز نے 6 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
مستونگ سے فورسز نے 5 جبکہ پنجگور سے ایک نوجوان کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
مستونگ میں کلی کاریزسور کے رہائشی عاصم فاروق کو فورسز نے رات 1 بجے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
اسی طرح مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے محمد وفا ولد حاجی محمد اشرف شاہوانی نامی نوجوان کو رات گئے ان کے گھر واقع کھڈکوچہ تحصیل کے مقام سے فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔
جبکہ گذشتہ شب مستونگ میں نگڑھ سے بھی خلیل احمد شاہوانی نامی ایک نوجوان کو رات 3 بجے ان کے گھر سے فورسز نے چھاپہ مارکر حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا۔
جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک مریض ہیں۔
دریں اثنا 29 مئی کو بھی ایف سی نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے ہیں جس کے بعد سے دونوں نوجوان منظرعام پر نہیں آسکے ہیں۔
جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والوں کی شناخت بسم اللہ ولد غلام سرور اور سمی اللہ ولد محمد حنیف کے ناموں سے ہوئی ہے اور دونوں مستونگ پڑنگ آباد کے رہائشی ہیں۔
مقامی زرائع کے مطابق دونوں نوجوانوں کو مستونگ سے منگچر جاتے ہوئے ایف سی اہلکاروں نے لاپتہ کردیا ہے۔
علاقہ ازیں ضلع پنجگور کے تحصیل پروم میں فورسز نے رات گئے آپریشن کرتے ہوئے متعدد گھروں پر چھاپے مارے، جس کے دوران ایک نوجوان شہزاد ولد نذیر کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
یہ کارروائی 31 مئی کی شب 12 بجے کے قریب پروم کے علاقوں رحیم آباد اور نعیم آباد میں کی گئی، جہاں فورسز نے جائین کے پورے علاقے کا محاصرہ کرکے چھاپے مارے۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز کے ساتھ مقامی مسلح افراد، جنہیں عوامی حلقے “ڈیتھ اسکواڈ” کے نام سے جانتے ہیں، بھی اس کارروائی میں شریک تھے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق، رحیم آباد میں چھاپے کے دوران نوجوان شہزاد ولد نذیر کو حراست میں لینے کے بعد اپنے ساتھ لے جایا گیا، جس کے بعد سے وہ تاحال لاپتہ ہے۔
شہزاد کے قریبی رشتہ دار بشیر احمد نے بتایا”میرے کزن شہزاد کو رحیم آباد سے اٹھا لیا گیا، پھر ہمارے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل میرے چھوٹے بھائی جنگیان بلوچ کو بھی اغوا کیا گیا تھا جو اب تک لاپتہ ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ آئے روز کی چھاپہ مار کارروائیوں اور جبری گمشدگیوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔