پسنی ،تربت اور کراچی سے 4 بلوچ نوجوان فورسز ہاتھوں جبراً لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے پسنی ،تربت اور کراچی سے 4 نوجوانوں کوحراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے۔

ساحلی شہر پسنی سے جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت شوکت رحمت اور گوہر بخش جبکہ تربت و کراچی سے لاپتہ کئے نوجوانوں کی شناخت عدنان ولد لیاقت اور ذکریا ولد اسماعیل کے ناموں سے ہوگئی ہے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ پسنی کے علاقے ریک پُشت سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کو فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

دونوں نوجوان پیشے کے لحاظ سے حجام ہیں اور ایک ہی دوکان میں کام کرتے تھے۔

جبکہ ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے مرکزی فنانس سیکریٹری ناصر بلوچ کے گھر پر فورسز نے چھاپہ مار کر ان کے بھتیجے عدنان ولد لیاقت کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران فورسز نے گھر کی مکمل تلاشی لی اور خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

اسی طرح فورسز نے کراچی کے علاقے ہزارہ گوٹھ میں چھاپہ مارکر ذکریا اسماعیل کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کیا ہے، جو حال ہی میں کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ذکریا کو ان کے کمرے سے حراست میں لیا گیا۔ جس کے بعد اس کی موجودہ مقام سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔

Share This Article