آواران و سارونہ میں فوج ومعدنیات کی گاڑی پر حملے کئے، قلات میں ناکہ بندی کی،بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں آواران میں پاکستانی فوج، قلات میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی اور سارونہ میں معدنیات لے جانے والی گاڑی پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ سترہ مئی 2025 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے آواران کے علاقہ پیراندر، جکرو میں صبح 9 بجے کے قریب گھات لگا کر پاکستانی فوجی اہلکاروں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ تعمیراتی ڈیم کی سیکورٹی کیلئے اپنی پوزیشن پر جا رہے تھے۔ حملے کے نتیجے میں دشمن کا ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

سترہ مئی 2025 کی رات 9:30 بجے کے قریب بی ایل ایف کے سرمچاروں نے سارونہ کے مقام ریکو میں بلوچستان سے معدنیات لے جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بناکر نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ سترہ مئی 2025 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے قلات کے علاقہ مرجان میں کوئٹہ سے کراچی جانے والی ہائی وے کو رات ساڑھے 8 بجے سے پوری رات صبح تک تین مختلف مقامات پر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ کی، جبکہ سرمچاروں نے مرجان میں ٹیلی نار ٹاور کو بھی نقصان پہنچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ،بلوچ اور پشتون ٹرانسپورٹ برادری بالخصوص مسافروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور گاڑیوں میں موجود سرکاری اہلکاروں کی نشاندہی میں اپنا کردار ادا کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک ذمہ دار قومی تنظیم کے طور پر، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ناکہ بندی کے دوران، ٹرانسپورٹ کمیونٹی، خاص طور پر مسافروں کو تکلیف ہوتی ہے۔ چونکہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہمارے دشمن آپ کے سفر کو اپنے لیے محفوظ اور فرنٹ لائن سمجھتے ہوئے بھیس بدل کر آپ کی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں، اس لیے دشمن کی نقل و حرکت کو روکنے اور محدود کرنے کے لیے ناکہ بندی وقت اور حالات کے مطابق ہماری جنگی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article