بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے گلنگور سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
لیویز کے مطابق نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کیا ہے۔
لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے ٹیچنگ اسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسپتال میں ان کی شناخت پنجاب کے رہائشیوں کے طور پر کر لی گئی۔
ان میں دو افراد کا تعلق پاکپتن سے ہے جن میں معین ولد غلام مصطفیٰ اور حزیفہ ولد محمد لطیف شامل ہیں۔ دیگر دو افراد کی شناخت عمران علی ولد مقصود احمد اور عرفان علی ولد مقصود احمد کے طور پر ہوئی ہے، جن کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔
لیویز حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاہم واقعہ کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔
واضع رہے کہ بلوچ آزادی پسند رہنما اور بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے حالیہ ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ بلوچ جدوجہد کے ان دو سے تین عشروں میں، ہم نے کسی بھی عام پنجابی کو نشانہ نہیں بنایا، ہم خود مظلوم ہیں۔ ہم وہ ہیں جنھیں ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہمارے پاس ثبوت ہیں،بلوچستان میں، افغانستان میں، ایران میں۔ ہم نے ان کے کرنل سطح کے افسران کو پکڑا ہے، اور ثبوت واضح ہیں کہ انھیں اپنے ہی لوگوں کو مارنے اور الزام ہمارے پر لگانے کا حکم دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ، ہماری روایات، ہمارے اخلاقی اقدار، اور ہماری قومی آزادی کی جدوجہد جو ہزاروں سال پرانی ہے،ہمیں ایک معصوم محنت کش کو مارنے کی اجازت نہیں دیتی۔