بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں خاران میں ڈی آئی جی پولیس کمپلیکس کے تعمیراتی کام پر مامور پولیس اہلکاروں کے اسلحات کو قبضے میں لینے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ آج 7 مئی 2025 کو دوپہر تقریباً 2:30 بجے، بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خاران شہر میں باب خاران کے قریب ڈی آئی جی پولیس کمپلیکس کے تعمیراتی کام کی مشینری کو تباہ کرنے کی غرض سے جیسے ہی وہاں پہنچے تو زیر تعمیر کمپلیکس کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں نے سرمچاروں کو دیکھتے ہی ان پر حملہ کردیا۔ بلوچ سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کو مزاحمت ترک کرنے کیلئے 10 منٹ تک کا موقع دیا تاہم پولیس اہلکاروں نے سرمچاروں کی اس نرمی کو ان کی کمزوری سمجھ کر سرمچاروں پر فائرنگ جاری رکھا جس پر سرمچاروں نے سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر جوابی حملہ کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں کے جوابی حملے میں ایک پولیس اہلکار عبدالقیوم سکنہ نوشکی زخمی ہوگیا جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے سرمچاروں کے آگے ہتھیار پھینک دیا۔ سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کا اسلحہ ضبط کیا اور انھیں تنبیہ کرکے چھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ خاران میں ڈی آئی جی پولیس کمپلکس کی تعمیراتی کام کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے ہتھیار قبضہ میں لینے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور میڈیا کے ذریعے محکمہ پولیس میں حاضر سروس بلوچ اہلکاروں کو ایک بار پھر تنبیہ کرتے ہیں کہ آزادی کی اس جنگ میں قابض ریاست اور اس کے وحشی فوج کا آلہ کار بننے اور سرمچاروں کے سامنے رکاوٹ بننے سے گریز کریں ورنہ ان کے ساتھ بھی قابض فوج جیسا برتاؤ کیا جائے گا۔