بلوچستان کے زیارت کے علاقے سنجاوی میں سی ٹی ڈی کی مبینہ کارروائی میں ہلاک 7 افراد میں سے مزید 2 کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوگئی ہے ۔
مزار خان مری اور خیر محمد مری کے ناموں سے شناخت ہونے والے دونوں افراد کو 4 مہینہ قبل دکی سے فورسز نے گرفتار کر کے جبری طور پرلاپتہ کیا تھا۔
واضع رہے کہ اس سے قبل ایک کی شناخت ملک خیر محمد حسنی کے نام سے ہوگئی تھی جوتحصیل تھل چوٹپالی بنی کوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور اسے پانچ ماہ قبل دکی سے لاپتہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح ایک کی شناخت گل محمد کے نام سے ہوگئی تھی جس کی جبری گمشدگی کی تفصیلات لواحقین نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز تنظیم کوفراہم کیا تھا اور تنظیم نے گل محمد مری کا کیس لاپتہ افراد کے کمیشن کو فراہم کیا تھا۔
سی ٹی ڈ ی کی کارروائیاں ہمیشہ مشکوک رہی ہیں اورجعلی ثابت ہوئی ہیں لیکن بلوچ حلقوں کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں کےبنیاد پر اب تک کسی بھی ملکی و انٹرنیشنل فورم نے پاکستانی فورسز کو بلوچ نسل کشی میں جوابدہ نہیں ٹھہرایا ہے۔