بلوچستان کے علاقے خاران اور پنجگور لاپتہ شخص اور پولیس نسٹیبل سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
خاران سے آمدہ اطلاعات کے مطابق شہر کے دو مختلف مقامات کلی کشمیر اور گواش روڈ، سوربڈو کے علاقے سے 2 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
کلی کشمیر سے ملنے والی لاش کی شناخت حفیظ اللہ ولد داد محمد، ساکن گزی، ضلع خاران کے طور پر ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، حفیظ اللہ 26 اپریل سے لاپتہ تھا۔ اسے قتل کر کے لاش کو بوری میں بند کر کے گندم کے کھیت میں پھینک دیا گیا تھا۔
پولیس نے حفیظ اللہ کے لاپتہ ہونے کے مقدمے میں لاش کی برآمدگی سے قبل ہی پانچ افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی تھی، جو اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔
دوسری لاش گواش روڈ، سوربڈو کے علاقے سے ملی ہے، جس کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق، لاش کے ساتھ مبینہ طور پر تین رنگوں والا ایک پرچم بھی رکھا گیا تھا، اور مقتول کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
پولیس دونوں واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں ان واقعات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ادھر پنجگور میں مقامی پولیس نے تسپ سیڈے سر سے ہاتھ بندی ایک لاش برآمد کرلی ہے ۔ جسے گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔
پنجگور عیسئی کے علاقے سے برآمد ہونے والی نعش کی شناخت مکرم ولد اکرم کے نام سے ہوگئی ہے جو وشبود کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
مقتول ہائی وے پولیس میں کانسٹیبل تھے۔