کینیڈا کے اگلے وزیر اعظم کو منتخب کرنے کے لیے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا جس کے بعد نتیجے کے حوالے سے ابتدائی اعدادو شمار بھی آنا شروع ہوگئے۔
کینیڈا میں پارلیمانی انتخابات پر ووٹنگ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک جاری رہی جس میں شہریوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
کینیڈا کے وزیراعظم اور لبرل پارٹی کے امیدوار مارک کارنی اور کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پولی ایو میں کانٹے کا مقابلہ متوقع تھا۔
343 کےایوان میں اکثریت حاصل کرنےکیلئےکسی بھی پارٹی کو 172 نشستیں درکارہوں گی۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق متعدد میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی نے کینیڈا کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
پبلک براڈکاسٹر سی بی سی اور سی ٹی وی نیوز دونوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لبرل پارٹی کینیڈا کی اگلی حکومت تشکیل دے گی، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پارٹی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوئی ہے یا نہیں۔
ووٹنگ کے بعد ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق لبرل پارٹی کو 158 جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو 143 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
اس کے علاوہ بلاک کیوبک کو 24 اور این ڈی پی کو 10 نشستوں پر برتری ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن سے پہلے لبرلز کے پاس 152 اور کنزریٹوز کے پاس 120 نشستیں تھیں جبکہ Bloc Québécois کے پاس 33 اور این ڈی پی کے پاس 24 نشستیں تھیں۔
ماہرین اب تک آنے والے نتائج کو حیران کن قرار دے رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ مکمل نتائج آنے سے پہلے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انتخابات میں جیت کس کی ہوئی۔
سی بی سی نیوز نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پارٹی کو 343 سیٹوںپر مشتمل پارلیمنٹ میں قطعی اکثریت ملے گی۔
لبرل پارٹی کے صدر دفتر میں حامیوں میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
رجحانات کے اعلان کے بعد پارٹی کے ایک حامی نے سی بی سی کو بتایا کہ ’کینیڈا کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی واپسی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت اہم ہے کہ کارنی اس وقت آگے آئے جب کینیڈا کو ان کی ضرورت تھی۔’
سی بی سی کے مطابق مارک کارنی کی پارٹی کینیڈا میں حکومت بنانے کے لیے کافی نشستیں جیت سکتی ہے۔ چاہے اسے قطعی اکثریت نہ ملے۔
کینیڈا کی سیاست میں لبرل پارٹی گذشتہ چند مہینوں سے کافی دباؤ کا شکار ہے۔ جسٹن ٹروڈو کو انھیں حالات میں ہی استعفیٰ دینا پڑا۔
وہ پارٹی جو چند ماہ قبل تک تقریباً ختم سمجھی جاتی تھی، اب چوتھی بار اقتدار میں آسکتی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار انتھونی زرکر کا خیال ہے کہ لبرل پارٹی کی جیت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا بھی کردار تھا۔