مستونگ : آل پارٹیز کانفرنس میں متعدد قرار دادیں منظور

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس نے قومی سلامتی کانفرنس میں بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لیے منعقدہ حالیہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں بالخصوص ہارڈ سٹیٹ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس پیر کو کوئٹہ سے متصل کوئٹہ کراچی ہائی وے پر لکپاس کے مقام پر منعقد ہوئی جہاں بلوچستان نیشنل پارٹی 28 مارچ سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنمائوں اور گرفتاریوں کے خلاف دھرنا دیے ہوئے ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس میں جن دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی ان میں جمیعت العلما اسلام، نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، پشتون تحفظ موومنٹ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ، وحدت المسلیمین، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی (بلوچ گروپ)، جمہوری وطن پارٹی کے رہنمائوں کے علاوہ مرکزی انجمن تاجران کے عہدیداروں اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

سردار اخترمینگل، مولانا عبدالغفور حیدری، سردار کمال خان ببنگلزئی، اصغرخان اچکزئی، میر اسراراللہ زہری، داؤد شاہ کاکڑ اور عبدالمتین اخوندزادہ کے علاوہ دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے خطاب بھی کیا۔

کانفرنس کے بعد لکپاس ڈیکلریشن کے نام سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، بیبرگ بلوچ اور صبغت اللہ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری، بلوچستان کی وفاقی آئینی حیثیت کو ایک نوآبادی میں تبدیل کرنے کے عمل کی مذمت کی گئی اور تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’دھرنے میں شریک سیاسی جماعتیں ’بلوچستان کی وفاقی وحدت کی حیثیت سے بحالی، خفیہ اداروں کی مداخلت، سیاسی جمہوری جدوجہد کرنے والی جماعتوں اور بی این پی کی پرامن لانگ مارچ کو روکنے، سردار اختر مینگل سمیت سیاسی قائدین کو خودکش حملہ آوروں کے رحم و کرم پر لکپاس کے مقام پر روکنے کے عمل کو انتہائی تشویش اور غم و غصہ کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔‘

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’سیاسی و جمہوری جماعتیں بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے آئینی اور غیر متشددانہ جدوجہد کی نہ صرف حمایت کرتی ہیں بلکہ ریاست اور ریاستی اداروں کی جارحانہ پالیسی کو وفاق کے لیے تباہ کن سمجھتی ہیں۔‘

دھرنے میں شریک سیاسی جماعتون نے بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لیے منعقدہ حالیہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں بالخصوص ہارڈ سٹیٹ پالیسی کو ملک میں مزید انتشار اور اضطراب کا باعث قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست ایسے سخت گیر پالیسیوں سے نہ صرف اجتناب کرے بلکہ آئین پر مکمل عملداری کویقینی بناتے ہوئے بلوچستان کے مسئلہ کو حل کرے۔

کانفرنس میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔

1۔دوران لانگ مارچ و دھرنا بی این پی کے کارکنوں اور بی وائی سی اکابرین و کارکنوں کو حراساں کرنے گرفتار کرنے اور وڈھ میں پرامن احتجاج کرنے کے دوران کارکنان عنایت اللہ لہڑی کی فورس کے ہاتھوں شہادت اور کارکنوں کو زخمی کرنے کی مذمت اور ملوث اہلکاروں کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے ۔

2۔ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے رہنماوں بشمول عمران خان علی وزیر ڈاکٹر یاسمین سمیت پی ٹی آئی بی این پی اور سندھ بھر کینال تحریک میں گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

3۔بلوچستان میں جاری وفاق کی جارحانہ پالیسی فوجی آپریشن سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنے تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریاں خوف ک فضا قائم کرنے کیلئے طالب علم دانش ور اساتذہ اور دیگر طبقات کیخلاف فورتھ شیڈول جیسے نوآبادیاتی پالیسیوں کو فورا ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

4۔بلوچستان کے قدرتی وسائل سے متعلق جاری قابضانہ رحجانات قانون سازی اور معاہدات بشمول مائنز اینڈ منرل ایکٹ 2025 کی فوری تنسیخِ پی پی ایل معاہدہ کا خاتمہ ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کے 50 فیصد حصہ داری کے حق کو تسلیم کیا جائے۔

5۔آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان کے سرحدی علاقوں قومی شاہراہوں ایف سی کوسٹ گارڈ اور وفاقی اداروں کی تذلیل لوٹ مار اور کرپشن کے ذریعہ بنے والی چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔

6۔اے پی سی ڈیورنڈ لائن چمن میں دو سال سے جاری دھرنے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ چمن سے جیونی تفتان سے منداور ماشکیل سے پنجگور تک تجارت پر پابندیوں کی مذمت اور سرحدی تجارت کو بحال کیاجائے۔

7۔اے پی سی بلوچستان کے مسئلے کے لیے قومی سطح پر ڈائیلاگ کے آغاز اور 1948 کے الحاق کے دستاویزات اور بالترتیب آئین تحفظات پر عمل درآمد کو یقینی بنا یا جائے ۔

8۔اے پی سی ذمہ داروں تاجروں ٹرانسپورٹروں اور کاروباری حضرات کو حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کا ازالہ کرنے کا فوری اقدام کرے ۔

9۔اے پی سی افغان کڈوال کو جنیوا کنونشن کے حصول کے تحت باعزت پور پر واپس بھیجنے اور پی ٹی ایم پر پابندی خاتمہ اور نوابزادہ گہرام بگٹی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کی مذمت کرتی ہے۔

Share This Article