بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنما صبغت اللہ شاہ جی نے ہدہ جیل میں اپنے فیملی سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ انہیں ریاست کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے پر رہائی کی پیشکش کی گئی ہے لیکن میں نے ا نکار کردیا ہے،میں ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا۔
تھری ایم پی او قانون کے تحت کوئٹہ کی ہُدہ جیل میں قید بی وائی سی رہنما نے مزید کہا کہ دیگر قید بی وائی سی رہنماؤں کو حکومت کی جانب سے معاہدے کی پیشکش بھی کی گئی تھیں۔
شاہ جی کے اہلِ خانہ نے حال ہی میں جیل میں ان سے ملاقات کی جہاں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے انہیں جیل سے رہائی کی پیشکش کی شرط یہ تھی کہ وہ سیاسی سرگرمیوں دھرنوں اور احتجاج سے باز رہیں۔
شاہ جی صبغت اللہ کے مطابق حکام کی اس پیشکش کو ہم میں سے کسی نے قبول نہیں کیا، ہم سیاسی کارکن ہیں ہماری جدوجہد اپنی قوم کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے ہے اگر ریاست کو ہمارا احتجاج پسند نہیں تو وہ ہمارے حقوق کی پامالی بند کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست ہمیں احتجاج پر مجبور کرتی ہے جب تک جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور وسائل کی لوٹ مار جاری ہے ہم خاموش نہیں رہ سکتے ریاستی ادارے ہمیں تشدد پر اکسانے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر ہم پرامن رہیں گے جیسے ہمیشہ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں پر حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران پاکستانی فورسز نے رواں مہینے کے آغاز میں شاہ جی صبغت اللہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور چند روز بعد انہیں تھری ایم پی او کے تحت ہُدہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
اس موقع پر شاہ جی کے ساتھ ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبگر زہری، ان کے بھائی حمل، اور خواتین کارکن بیبو اور گلزادی بلوچ بھی بدستور تھری ایم پی او کے تحت پولیس کی حراست میں ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی پر ریاستی کریک ڈاؤن اور رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں انسانی حقوق کے ادارے اور عوامی حلقے ان کارکنان کی فوری رہائی اور ریاستی جبر کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ میں شاہ جی صبغت اللہ سمیت دیگر بی وائی سی ارکان کی گرفتاریوں کے خلاف درخواست زیرِ سماعت ہے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔