بلوچستان کے علاقے وڈھ اور قلعہ سیف اللہ میں 2 افراد کے جبری گمشدگی اور قتل کے ردعمل میں لواحقین نے احتجاجاًشاہراہیں بلاک کردیں۔
وڈھ سے نوجوان کے جبری گمشدگی کے خلاف قومی شاہراہ کو خواتین کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجاً بند کر دیا ہے۔
نوجوان کے اہل خانہ کے مطابق فہد مینگل کو پانچ روز قبل اس وقت لاپتہ کیا گیا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جا رہے تھے۔
فہد مینگل کی جبری گمشدگی کے خلاف کلی براہمزئی کے مقام سے مقامی افراد نے احتجاجا قومی شاہراہ بلاک کر دیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ فہد مینگل کی عدم بازیابی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب قلعہ سیف اللہ میں لیویز اہلکار کے قتل کے خلاف لواحقین نے احتجاجاً مرکزی شاہراہ بند کردی۔
~
لیویز اہلکار اسحاق خان میرزئی کے قتل کیخلاف لواحقین اور قبائلی عمائدین نے مرکزی شاہراہ کو ہسپتال کے سامنے بلاک کر کے شدید احتجاج کیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جب تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا، شاہراہ بند رہے گی۔
مظاہرے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
واضح رہے کہ کچھ نامعلوم مسلح افراد نے لیویز اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا۔