خاران میں لیویز تھانے پر قبضہ کرکے اسلحات ضبط کرلیے ،بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس میں خاران میں لیویز تھانے پر حملہ اور ا اسلحات ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے خاران میں ایک کارروائی کے دوران لیویز فورس کے ایک تھانے پر قبضہ کر کے وہاں موجود تمام اسلحہ اپنے قبضے میں لے لیا اور علاقے میں گشت کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب تقریباً ایک بجے کے قریب خاران کے علاقے مسکان قلات میں پاکستانی ریاستی فورس لیویز کے ایک تھانے کو سرمچاروں نے گھیرے میں لے کر مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس کارروائی کے دوران تھانے میں موجود 10 اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا اور وہاں موجود تمام اسلحہ اور فوجی سازوسامان کو ضبط کرلیا گیا۔ ضبط کیے گئے ہتھیاروں میں تیرہ عدد کلاشنکوفیں اور دیگر عسکری سازوسامان شامل تھے۔ بعد ازاں سرمچاروں نے ان اہلکاروں کو قومی جرم میں ملوث نہ ہونے پر رہا کر دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی کے بعد سرمچاروں نے علاقے میں گشت کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ ریاستی فورسز کی ممکنہ جوابی کارروائی سے نمٹا جا سکے اور علاقے میں اپنی موجودگی کو واضح کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل ڈی آئی جی رخشان ڈویژن کی زیرِ صدارت ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر کسی بلوچ نوجوان کا آزادی پسند تنظیموں سے تعلق سامنے آئے تو پولیس اور لیویز فورس کو حکم دیا جائے کہ ایسے افراد کو موقع پر ہی گولی مار دی جائے۔ اس قسم کی پالیسیوں کا مقصد مقامی لیویز و پولیس فورسز کے اہلکاروں کو بلوچ عوام کے خلاف کھڑا کر کے انہیں ریاستی ظلم کا آلہ کار بنانا ہے۔ یہ سازش مقامی فورسز اور بلوچ عوام کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

ترجمان نے کہا کہ لیویز و پولیس فورسز میں چونکہ زیادہ تر اہلکار مقامی بلوچ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں تنظیم کی براہ راست دشمنی کا سامنا نہیں ہے۔ تاہم، اگر یہ اہلکار ریاستی جبر و تشدد میں شریک پائے گئے اور بلوچ عوام پر مظالم میں ملوث ہوئے تو انہیں بھی براہ راست نشانہ بنایا جائے گا۔ ایسے تمام عناصر جو ریاست کے ظلم میں شریک ہوں گے، وہ چاہے بلوچ ہی کیوں نہ ہوں، انہیں بخشا نہیں جائے گا کیونکہ وہ اپنی سرزمین اور قوم کے خلاف دشمنی میں شریک سمجھے جائیں گے۔

Share This Article