بلوچستان کے ساحلی شہر اور ضلع گوادر کے تحصیل پسنی سے ایک نوجوان کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاگیا جبکہ قلات سے ایک جبری لاپتہ نوجوان کی نعش برآمد ہوئی ہے۔
پسنی سے جبری لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت عبداللہ ولد علی کے نام سے ہوگئی ہے ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ عبداللہ کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے پیدارک سے ہے۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عبداللہ کو گذشتہ شام پسنی سے نامعلوم افراد نے اغواء کر کے لاپتہ کردیاہے۔
دوسری جانب قلات کے علاقے کپوتو سے نوجوان کی نعش برآمد ہوئی ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول امداد اللہ شاہ چاند رات کو اپنے گھر پندران جارہے تھے کہ گاڑی سمیت لاپتہ ہوگئے تھے۔
قلات لیویز کے مطابق گزشتہ روز امداد اللہ کی نعش کپوتو کے قریب لنک روڈ پر ان کی گاڑی میں پڑی ہوئی ملی ۔
قلات لیویز نے ضروری کارروائی کے بعد نعش کو ورثاء کے حوالے کر دیا۔
مزید کارروائی قلات لیویز کررہی ہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں سیاسی مزاحمت کے بعد سیکورٹی فورسز کی جعلی کارروائیوں میں متعدد افراد کے قتل کے واقعات سامنے آئے جن میں زیادہ تر کی شناخت بطور لاپتہ افرادکے ہوگئی ہے۔