حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ بی وائی سی نے کس کی میتیں روڈ پر رکھ کر احتجاج کیا ،تعین ہونا باقی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بی وائی سی نے قومی شاہراہ بند کرکے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا ، شاہراہ کی بندش کے باعث کراچی و دیگر شہروں سے آنے والے مسافر اذیت سے دوچار ہوئے ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے روڑ کھلوانے کے لئے قانون کے مطابق کارروائی کی ،مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور تشدد کیا ، اس دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل اور پولیس اہلکاروں سمیت دس زخمی افراد اسپتال لائے گئے ۔
ترجمان نے کہا کہ بی وائی سی نے کس کی میتیں روڑ پر رکھ کر احتجاج کیا ، تعین ہونا باقی ہے، جب تک متوفیان کی لاشیں اسپتال لاکر ضابطے کی کارروائی مکمل نہیں کی جاتی وجوہات کا تعین ممکن نہیں، امن و امان میں خلل ڈال کر افراتفری پھیلائی جارہی ہے۔
شاہد رند نے مزید کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، قانون ہاتھ میں لیکر نقص امن کا ارتکاب کیا جائے گا تو حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی، عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے جسے پورا کیا جائے گا ۔
واضع رہے کہ آج بروز جمعہ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے میں بلوچ نسل کشی ، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا۔دھرنے پر حکومت بلوچستان نے طاقت کا استعمال کر کے 3 افراد کو قتل کیا، متعدد افراد کو گرفتار و لاپتہ کیا اور اب حالات کشیدہ ہیں۔
بی وائی سی سے 3 افراد کی لاشیں منیر احمد روڈ پر رکھ دھرنا دے دیا ہے۔