پاکستان میں عسکریت پسندی کے بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں ’نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔‘
قومی اسمبلی کے سپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اہم وفاقی وزرا اور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سٹریٹجک اور متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی اور قوم پرست جماعتوں نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ اجلاس میں شرکت کے لیے عمران خان کو پیرول پر رہا کریں۔
خیال رہے کہ یہ اجلاس جعفر ایکسپریس پر عسکریت پسندوں کے حملے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد حملوں اور ہلاکتوں کے بعد منعقد ہوا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ’کمیٹی نے پروپیگنڈا پھیلانے، اپنے پیروکاروں کو بھرتی کرنے اور حملوں کو مربوط کرنے کے لیے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات پر زور دیا۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’کمیٹی نے دہشت گردوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے سدباب کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ دشمن قوتوں کے ساتھ ملی بھگت سے کام کرنے والے کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اعلامیے میں کمیٹی نے حزب اختلاف کے بعض اراکین کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ اس بارے میں مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سات اپریل 2023 کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔