جعفر ایکسپریس پر بلوچ عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد بلوچستان جانے اور آنے والی ٹرینوں کی سروس کو معطل کردیا گیا ہے۔
پاکستان ریلوے نے عارضی طور پر پنجاب اور سندھ سے بلوچستان کے لیے اپنے آپریشنز کو معطل کر دیا ہے۔
پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عامر علی بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ بلوچستان کے لیے تمام مسافر اور مال بردار ٹرینیں اس وقت تک معطل رہیں گی، جب تک سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے علاقے کی کلیئرنس نہ دے دی جائے، بلوچستان میں حالات معمول پر آنے تک ٹرینیں عارضی طور پر معطل کی ہیں۔
سی ای او ریلوے عامر علی بلوچ نے کہا کہ ہم پاکستان کی سلامتی کے اداروں کے ساتھ اس حوالے سے رابطے میں ہیں، تاہم یہ نہیں بتاسکتے کہ اس وقت زمینی صورت حال کیا ہے، تاہم انہوں نے تمام مسافروں، ریلوے کے عملے اور شہریوں کی سلامتی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار اور دعا کی۔
ریلوے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ متعلقہ حکام کی درخواست پر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو سبی سے جعفر ایکسپریس کے ساتھ پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کے مقام تک پہنچانے کے لیے بھی خصوصی ٹرین چلائی تھی۔
ریلوے کے ڈپٹی اسٹیشن منیجر لاہور محمد آصف نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس (ڈاؤن) لاہور سے شام ساڑھے 5 بجے روانہ ہوگی، اور روہڑی /سکھر پر اس کی آخری منزل ہوگی، اب جعفر ایکسپریس کوئٹہ تک نہیں چلائی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے 2 ٹرینیں شاہ لطیف ایکسپریس اور پاک بزنس ٹرین کو کم ریزرویشن کی وجہ سے منسوخ کر دیا ہے، جن مسافروں نے ان دونوں ٹرینوں میں سفر کے لیے بکنگ کرائی تھی، انہیں قراقرم اور کراچی ایکسپریس کے ذریعے ان کی منزل تک پہنچادیا جائے گا۔