ضلع سبی کے علاقے ڈھاڈرمیں منگل سے جعفر ایکسپریس ٹرین بلوچ عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کے زیر قبضہ ہے ۔
اب تک اطلاعات کے مطابق بی ایل اے نے 80 کے قریب سویلین جن میں خوتین ،بوڑھے اور بچے شامل کو چھوڑ دیاہے جو مچھ سٹیشن پہنچ گئے ہیں۔
رہاکئے جانے والے سویلین نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو اپنی آنکھوں دیکھی رودادبتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے کہا کہ وہ سویلین، خواتین، بوڑھوں اور بلوچوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔‘
مشتاق محمد جو حملے کا نشانہ بننے والی جعفر ایکسپریس کی بوگی نمبر تین میں موجود تھے نے اس ٹرین حملے کے بارے میں بی بی سی کو مچھ سٹیشن پہنچ کرتفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’حملے کا آغاز ’ایک بہت بڑے دھماکے‘ سے ہوا۔‘
اسی ٹرین کی بوگی نمبر سات میں موجود اسحاق نور اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ کوئٹہ سے راولپنڈی جا رہے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ٹرین کی کھڑکیاں اور دروازے ہل کر رہ گئے اور میرا ایک بچہ جو کہ میرے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا نیچے گر گیا۔‘
مشتاق محمد کے مطابق ’اس کے بعد فائرنگ شرو ع ہو گئی۔ فائرنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ اس فائرنگ کے دوران ایسا منظر تھا جو کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔‘
ادھر فائرنگ اور گولیاں کوچز پر لگتے دیکھ کر اسحاق نور نے اپنے ایک بچے کو جبکہ ان کی اہلیہ نے ان کے دوسرے بچے کو اپنے نیچے کر لیا تاکہ ’اگر گولی لگے تو ہمیں لگے اور بچے بچ جائیں۔‘
اسحاق کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ شاید پچاس منٹ تک رہا ہو گا۔۔۔ اس دوران ہم لوگ سانس بھی نہیں لے رہے تھے کہ پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔‘
مشتاق محمد بتاتے ہیں کہ ’پھر آہستہ آہستہ فائرنگ رکی اور اس کے بعد مسلح افراد بوگیوں میں داخل ہوئے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’فائرنگ رکنے پر چند مسلح لوگ بوگی میں داخل ہوئے اور انھوں نے کچھ لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھنا شروع کیے اور ان ہی میں سے کچھ لوگوں کو علیحدہ کرتے گئے۔ ہماری بوگی کے دروازوں پر تین تین عسکریت پسند پہرہ دے رہے تھے۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ سویلین، خواتین، بوڑھوں اور بلوچوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔‘
مشتاق محمد نے بھی مزید بتایا کہ ’یہ لوگ (حملہ آور) آپس میں بلوچی میں بات کر رہے تھے اور ان کا لیڈر انھیں بار بار کہہ رہا تھا کہ ’سکیورٹی اہلکاروں پر خصوصی نظر رکھو، یہ ہاتھ سے نکلنے نہیں چاہییں۔‘
اسحاق نور بتاتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ ہماری بوگی سے انھوں نے کم از کم 11 مسافروں کو نیچے اتارا اور کہا کہ یہ سکیورٹی اہلکار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس موقع پر ایک شخص نے کچھ مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو اس کو تشدد کر کے نیچے اتارا گیا اور پھر گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ اس کے بعد بوگی میں موجود تمام لوگ ان کی ہدایات پر عمل کرتے رہے۔‘
اسحاق نورنے بتایا کہ شام کے وقت حملہ آوروں نے مسافروں سے کہا کہ ہم بلوچوں، عورتوں، بچوں اور بزرگ مسافروں کو رہا کررہے ہیں۔ وہ مجھے نہیں چھوڑ رہے تھے مگر جب میں نے ان کو بتایا کہ میں تربت کا رہائشی ہوں اور میرے ساتھ بچے اور خاتون ہیں تو انھوں نے مجھے بھی جانے دیا۔‘
ایک اور مسافر محمد اشرف کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے بزرگوں، عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو جانے دیا گیا اور پھر ان کا پنیر سٹیشن کا طویل پیدل سفر شام کے وقت شروع ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’پنیر سٹیشن تک ہم تین سے ساڑھے تین گھنٹے میں بہت مشکل سے پہنچے، کیونکہ تھکاوٹ بھی تھی اور ساتھ بچے، جوان بچیاں، خواتین بھی تھیں۔
’زیادہ تر لوگ سامان چھوڑ کر آئے تھے، جبکہ کچھ سامان ساتھ لیے آ رہے تھے، جس پر میں نے انھیں کہا کہ یہاں جان بچانا مشکل ہو رہا ہے۔۔۔ بہرحال کچھ ضعیف آدمی تھے انھیں ہم لوگوں نے کندھوں پر اٹھایا اور کرتے کرتے یہاں تک پہنچے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’مسافروں میں بہت زیادہ خوف تھا، قیامت کا منظر تھا۔‘
محمد اشرف کہتے ہیں کہ ’میرے اندازے کے مطابق حملہ آور دو ڈھائی سو کے قریب افراد کو اپنے ساتھ لے گئے تھے اور حملہ آوروں کی تعداد بھی سو سوا سو کے قریب تھی۔‘
اسی طرح بہاولپور جانے والے مسافر بشیر اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مسلح افراد آئے اور انھوں نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ نیچے اتریں۔ انھوں نے نہ مجھے روکا اور نہ میرے بچوں کو۔
’مسلح افراد نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں۔ اس کے بعد ہم لوگ مشکل راستوں سے ہوتے ہوئے پنیر ریلوے سٹیشن پہنچے۔‘