بلوچستان کے علاقے قلات میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں درجنوں افراد کی جبری گمشدگیوں کے خلاف لواحقین نے احتجاجاً کوئٹہ ٹوکراچی شاہراہ کو بند کرد یا ہے۔جبکہ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں گذشتہ 4 روز سے روڈ بلاک دھرنا جاری ہے ۔
واضع رہے کہ گذشتہ شب قلات سے فورسز نے سرچ آپر یشن کے دوران گھر گھر تلاشی و چھاپوں سے 41 کے قریب افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیاہے۔
درجنوں افراد کی نامعلوم مقام پر منتقلی اور ان کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر نہ دینے پر متاثرہ لواحقین نے احتجاجاً کوئٹہ ٹوکراچی شاہراہ کو آمد و رفت کےلئے بلاک کر دیا ہے۔
شاہراہ کی بند ش سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
جبکہ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں گذشتہ 4 روز سے روڈ بلاک دھرنا جاری ہے ۔
گذشتہ رات اسسٹنٹ کمشنر کردگاپ نے نوجوانوں کو دھمکی دی اگر روڈ نہیں کھولو گے تو تم لوگوں کو بھی لاپتہ کیا جائے گا۔
انتظامیہ کی دھمکیوں کے باوجود دھرنا میں عوام کی شرکت ہر روز تعداد میں زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔