گرفتار بلوچ خواتین سے وکیل کوملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ، سمی دین

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ خود حب چوکی دھرنے میں شامل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حب میں گرفتار ساتھیوں کے حوالے سے اطلاعات ملی ہیں کہ انہیں حب صدر تھانے (بیروٹ) میں قید رکھا گیا ہے۔ تاہم، نہ صرف ہمارے کسی بھی ساتھی بلکہ وکیل کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور پورا تھانہ سیل کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہمارے وکیل نے قانونی حق کے تحت ملاقات کی اجازت طلب کی تو ایس ایچ او گل حسن نے واضح طور پر کہا، “یہاں میری مرضی چلتی ہے، اور میری اجازت کے بغیر تھانے کے دروازے آپ کے لیے نہیں کھلیں گے۔”

سمی بلوچ نے کہا کہ وہ لوگ جو قانون کی پاسداری کا حلف اٹھاتے ہیں، آج خود قانون کو اپنے قدموں تلے روند رہے ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ انہیں روکنے اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہے البتہ حکومت کی جانب سے احکامات مل رہی ہیں کہ ان پر مزید کریک ڈاؤن کرکے دھرنے کو ختم کردیا جائے۔

واضع رہے کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آج حب چوکی میں بھوانی کے مقام پر جاری دھرنے پر پولیس و خفیہ اداروں نے کریک ڈ ائون کرکے کئی خواتین کو گرفتار کر جبری لاپتہ کیا ہے ۔

کریک ڈائون دوران فائرنگ و تشدد سے کئی افراد زخمی ہوگئے جن میں خواتین وبچے بھی شامل ہیں جبکہ تشددو لاٹھی چارج کے باوجود دھرنا پھر سے جاری ہے ، شاہراہیں بلاک ہیں اور گاڑیاں رکی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رمضان کی پہلی افطاری بلوچ لاپتہ افراد لواحقین نے بلوچستان کے سڑکوں پر کی ہے ۔

اس سے قبل سمی دین بلوچ کا کہنا تھاکہ حب بھوانی میں جبری طور پر گمشدہ یاسر اور جنید سمیت دیگر لاپتا افراد کے لواحقین گزشتہ چار دنوں سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں نے 20 دن قبل بھی اسی مقام پر تین روزہ دھرنا دے کر شاہراہ بند کی تھی، جس کے نتیجے میں انتظامیہ نے مذاکرات کے بعد 20 دن کے اندر گمشدہ افراد کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم، حکومت اپنی یقین دہانی پوری کرنے میں ناکام رہی، جس کے بعد لواحقین نے مجبوری میں ایک بار پھر حب ہائی وے کو بند کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے وعدے پورے کرنے کے بجائے، آج صبح 6 بجے پولیس نے دھرنے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے فائرنگ کی، مظاہرین پر تشدد کیا، اور 9 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں 8 خواتین اور بچے شامل ہیں، جن میں سیمہ بلوچ اور ماہزیب بلوچ بھی شامل ہیں۔ گرفتار افراد کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کر رہی اور نہ ہی یہ بتا رہی ہے کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔

سمی بلوچ نے کہا کہ جو لوگ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے تھے، وہ خود اب جیلوں میں قید ہیں۔

Share This Article